پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

رانا ثناء اللہ کے عام انتخابات کے بعد ستارے گردش میں،علاقے کے لوگ اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کس قسم کی دھمکیاں دے رہے ہیں؟ سابق وزیرقانون کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 10  اگست‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی)لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی سکیورٹی تاحکم ثانی واپس نہ لینے کاحکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری اور دیگرفریقین کوآئندہ ہفتے کے لئے نوٹس جاری کر دیئے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے رانا ثنااللہ کی درخواست پرسماعت کی جس میں چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری اور آئی جی پنجاب پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنا اللہ 2008ء سے 2018ء تک مسلسل صوبائی وزیر قانون اور کابینہ کمیٹی کے چیئرمین رہے جبکہ انہیں حالیہ انتخابات کے دوران اور بعد میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے سنگین نوعیت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔تمام متعلقہ فورمز پر سکیورٹی کے لیے درخواستیں دیں تاہم سکیورٹی کی فراہمی کے لیے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔رانا ثنا اللہ نے درخواست میں وقف اختیار کیا کہ پولیس سکیورٹی نہ دینا آرٹیکل 4، 9، 14اور 25کی خلاف ورزی ہے۔لہٰذا معزز عدالت سے استدعا ہے کہ پولیس کو سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ جس پر عدالت نے راناثنا اللہ کی سکیورٹی تاحکم ثانی واپس نہ لینے کاحکم دیتے ہوئے آئی جی، چیف سیکرٹری اور دیگر فریقین کو آئندہ ہفتے کے لئے نوٹس جاری کر دیئے۔ لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی سکیورٹی تاحکم ثانی واپس نہ لینے کاحکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری اور دیگرفریقین کوآئندہ ہفتے کے لئے نوٹس جاری کر دیئے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے رانا ثنااللہ کی درخواست پرسماعت کی جس میں چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری اور آئی جی پنجاب پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…