بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ہم یہ کام نہیں کر سکتے، نئی حکومت آکر فیصلہ کرے۔۔نگران حکومت کے سامنے ایسا معاملہ آگیاکہ اس نے صاف جواب دیدیا

datetime 4  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) نگراں حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری منتخب حکومت پر عائد کردی۔تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے 46 فیصد اضافے کی سمری ارسال کی گئی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نگراں حکومت نے اوگرا کو مراسلہ ارسال کیا جس میں تحریر تھا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ منتخب ہونے والی وفاقی حکومت

کو لینا چاہیے۔اوگرا کو ہدایت کی گئی کہ گیس کی موجودہ قیمتوں کو اگلی تجویز تک برقرار رکھا جائے۔خیال رہے کہ 21 جون کو اوگرا نے وفاقی حکومت کو گیس کی قیمتوں سے متعلق دو سمری ارسال کی تھیں۔قانون کے مطابق گیس کی قیمتوں میں سال میں دو مرتبہ نظر ثانی کی جا سکتی ہے، سیکشن 8(تھری) میں واضح ہے کہ اوگرا کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر وفاقی حکومت 40 دن کے اندر جواب دینے کی پابند ہو گی۔سیکشن 8 کی شق 4 کہتا ہے کہ اگر وفاقی حکومت مقررہ وقت میں گیس کی قیمتوں پر اپنا فیصلہ دینے میں ناکام ہوتا ہے تو اوگرا خود سے قیمتیں میں اضافے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔قانون واضح ہے وفاقی کابینہ کو اوگرا کی سفارشات پر 31 جولائی تک فیصلہ دینا چاہیے تھا۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ادارے حکومت اور اوگرا قانون کے منافی کام کررہے ہیں جو گزشتہ 4 برس سے جاری ہے۔دونوں اداروں کی وجہ سے سوئی نادرن گیس اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو بلترتیب 125 ارب روپے اور80 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے موقف اختیار کیا کہ نئی حکومت کو ذمہ داری سنبھالنے دی جائے اور وہ ہمیں تجویز پیش کرے۔خیال رہے کہ اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق 19-2018 کے مالی سال میں ہوگا ٗاوگرا کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) کو سندھ اور

بلوچستان میں اپنے جاری پروگرام کے لیے اگلے مالی سال کے دوران 167 ارب روپے درکار ہیں جس کی بنیاد پر انہوں نے 45.54 فیصد اضافے کی منظور دی۔اسی طرح اتھارٹی نے 19-2018 مالی سال میں سوئی نادرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتظامی و ترسیلی نظام کو جاری رکھنے کے لیے 287 ارب روپے درکار ہیں جس کے لیے 3.37 فیصد اضافہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…