منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی بار میں خطاب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے گلے پڑ گیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم جوڈیشل کونسل نے راولپنڈی بار سے خطاب پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی نے حال ہی میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے حساس ادارے پر الزامات عائد کیے تھے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو 28 اگست تک جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے اوپر کوئی کرپشن کا ایک الزام ثابت نہیں کر سکتا، جب بھی کوئی اہم فیصلہ دیتا ہوں مخصوص گروہ کی جانب سے میرے خلاف مہم چلا دی جاتی ہے،کہا جاتا ہے کہ یہ وہی جج ہے جس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہے،میرا دامن صاف ہے ۔ کہا گیا کہ یقین دہانیاں کروائیں کہ مرضی کے فیصلے دینگے تو آپ کے خلاف ریفرنسز ختم کرا دینگے، مجھے نوکری کی پرواہ نہیں ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ بار میں آکر خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی عرصے سے خواہش تھی،میرا احتساب میری بار ہی کر سکتی ہے۔ اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے موجودہ ملکی حالات کی 50فیصد ذمہ دار ی عدلیہ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات کی 50فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی 50فیصد دیگر اداروں پر عائد ہو تی ہے۔ پاکستان کا موازنہ امریکہ یا یورپ سے نہیں ہو سکتا ہے، بھارت، بنگلہ دیش یا سری لنکا کے ساتھ ہو سکتا ہے2030میں بھارت بڑی معاشی طاقت اور ہم پیچھے جا رہے ہیں, بھارت میں ایک دن کیلئے سیاسی عمل نہیں رکا اور نہ ہی کبھی مارشل لا لگا،بھارت میں کرپشن اور بدانتظامی ہے پھر بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا جرائم کی کمی کا سبب بنیں ، اس میں سہولت کار نہ بنیں ۔جسٹس منیر کا کردار ہر کچھ عرصے بعد سامنے آرہا ہے،ابھی تک قانون کے طلبا کو نہیں پتہ کہ جسٹس منیر نے کیا کام کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…