منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

راولپنڈی بار میں خطاب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے گلے پڑ گیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم جوڈیشل کونسل نے راولپنڈی بار سے خطاب پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی نے حال ہی میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے حساس ادارے پر الزامات عائد کیے تھے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو 28 اگست تک جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے اوپر کوئی کرپشن کا ایک الزام ثابت نہیں کر سکتا، جب بھی کوئی اہم فیصلہ دیتا ہوں مخصوص گروہ کی جانب سے میرے خلاف مہم چلا دی جاتی ہے،کہا جاتا ہے کہ یہ وہی جج ہے جس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہے،میرا دامن صاف ہے ۔ کہا گیا کہ یقین دہانیاں کروائیں کہ مرضی کے فیصلے دینگے تو آپ کے خلاف ریفرنسز ختم کرا دینگے، مجھے نوکری کی پرواہ نہیں ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ بار میں آکر خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی عرصے سے خواہش تھی،میرا احتساب میری بار ہی کر سکتی ہے۔ اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے موجودہ ملکی حالات کی 50فیصد ذمہ دار ی عدلیہ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات کی 50فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی 50فیصد دیگر اداروں پر عائد ہو تی ہے۔ پاکستان کا موازنہ امریکہ یا یورپ سے نہیں ہو سکتا ہے، بھارت، بنگلہ دیش یا سری لنکا کے ساتھ ہو سکتا ہے2030میں بھارت بڑی معاشی طاقت اور ہم پیچھے جا رہے ہیں, بھارت میں ایک دن کیلئے سیاسی عمل نہیں رکا اور نہ ہی کبھی مارشل لا لگا،بھارت میں کرپشن اور بدانتظامی ہے پھر بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا جرائم کی کمی کا سبب بنیں ، اس میں سہولت کار نہ بنیں ۔جسٹس منیر کا کردار ہر کچھ عرصے بعد سامنے آرہا ہے،ابھی تک قانون کے طلبا کو نہیں پتہ کہ جسٹس منیر نے کیا کام کیا تھا۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…