بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 251، چاروں صوبوں کے نتائج جاری کردیئے،ن لیگ اور تحریک انصاف کاپنجاب میں کانٹے کا مقابلہ،تازہ ترین صورتحال

datetime 27  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے 251، پنجاب کے 289، سندھ کے 118، خیبرپختونخوا کے 95 اور بلوچستان کے 45 حلقوں کے نتائج جاری کردیئے، جن کے مطابق قومی اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف، سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی، پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) ٗ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کو برتری حاصل ہے۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی 108، مسلم لیگ (ن) 62، پیپلز پارٹی 42، 12 آزاد امیدوار، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے ) 11، پاکستان مسلم لیگ 5، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان 4، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 2 اور عوامی مسلم لیگ، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پاکستان تحریک انسانیت کو ایک ایک نشست حاصل ہوئی۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے 19، پنجاب کے 6، سندھ کے 11،خیبرپختونخوا کے 2 اور بلوچستان کے 5 حلقوں کے نتائج جاری نہیں کیے گئے۔عام انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ تقریباً 55 فیصد رہا تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اب تک کے نتائج کے مطابق پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 127، تحریک انصاف کو 117 اور آزاد امیدوار کو 27 نشستیں حاصل ہوئیں۔سندھ میں پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی کا مکمل صفایا کرنے میں ناکام رہی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے 72، پی ٹی آئی نے 20، ایم کیو ایم نے 12 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے 11 نشستیں جیتیں۔صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ٗ

الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی 66، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) 10، عوامی نیشنل پارٹی 6 اور مسلم لیگ (ن) 5 نشستوں پر کامیاب رہی۔بلوچستان اسمبلی کے انتخابی نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کو برتری حاصل ہوگئی ٗالیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) 13، ایم ایم اے 8 اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) 5 نشستوں پر کامیاب رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…