بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

یہ 1970 ء کا وقت نہیں،عمران خان وزیر اعظم کے بجائے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن جائیں،اداروں نے سکیورٹی کے بجائے کون سا کام کیا؟ن لیگ نے انتہائی خطرناک دعویٰ کردیا

datetime 27  جولائی  2018 |

کراچی (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) رہنما مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ ہمارے ہاتھ پاؤں باند ھ کر انتخابات میں اتارا گیا ۔انتخابات میں اداروں نے سکیورٹی کے امور سنبھالنے کے بجائے پولنگ کا سسٹم ہی اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا ۔ ایک سال سے ہماری پارٹی کو ٹارگٹ کیا گیا ۔ عمران خان کو چھوٹ دی گئی ، جب ان سے بات نہ بنی تو ادارے خود انتخابات کے نتائج پر حاوی ہو گئے ۔ عمران خان وزیر اعظم کے بجائے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن جائیں گے ۔

پیپلز پارٹی کو سیٹیں اس ڈر سی دی گئیں کہ کہیں وہ مسلم لیگ (ن) سے نہ مل جائے ۔ ہم نے ہمیشہ ہار کر بھی شکست تسلیم کی ۔ مگر اس انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں خواجہ طارق نذیر ، علی اکبر گجر اور مسلم لیگ (ن) سندھ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سسٹم کو ختم نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم جمہوریت کو جمہور کے طرز سے چلانے کا عزم رکھتے ہیں ۔ ۔ عوام نے کھل کر دیکھا کہ نتائج کے ساتھ کیا کیا گیا ۔ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا تھا اور ہمارے پولنگ ایجنٹس کو خالی بیلٹ باکس نہ دکھائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی مشاورت کے بعد جو بھی فیصلہ ہو گا ، ہم اسے قبول کریں گے ۔ جب بھی ملک میں دھاندلی ہوئی ، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہوں گے ، جو اس دھاندلی میں شامل تھے ۔ ہم کسی کو بھی ملک کے مستقبل سے کھیلنے نہیں دیں گے ۔ عمران خان کٹھ پتلی ہے ۔ اس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سے پی ٹی آئی کو جیتنا تھا ، ان پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ دو گھنٹے میں آگیا تھا جبکہ کراچی کا رزلٹ 24 گھنٹے بعد بھی نہ آ سکا ۔ کراچی میں عمران خان کو 91 ہزار ووٹ کا مطلب دھاندلی کی انتہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق اور ہم سمیت محمود خان اچکزئی کو ٹارگٹ کیا گیا ۔

دنیا کو یہ دکھایا گیا کہ پولنگ پرامن ہے مگر حقیقت میں پولنگ اسٹیشنز پر مارشل لاء لگایا گیا تھا ۔ ۔ آر ٹی ایس سسٹم خراب نہیں ہوا تھا بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دھاندلی کی غرض سے رزلٹ روکا گیا ۔ شیخ رشید اور عمران خان کچھ قوتوں کا بار بار شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے ہم ان کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کہی ہوئی بات ہمیں اب سمجھ آ گئی ہے کہ امپائر کون ہے اور انگلی کس کی اٹھی ہے ۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ 272 حلقے کھلنے کے بعد ہی ہم رزلٹ کو تسلیم کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…