منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

’’عمران کو وزیراعظم بنانے کا مطلب ہو گا کہ میں اپنی سیاسی قبر کھود لوں‘‘میری مرضی کے بغیر عمران وزیراعظم نہیں بن سکتا کیونکہ ۔۔۔! آ صف زرداری نے آرمی چیف قمر باجوہ کے بارے میں حیرت انگیز دعویٰ کردیا

datetime 10  جولائی  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)’’عمران کو وزیراعظم بنانے کا مطلب ہو گا کہ میں اپنی سیاسی قبر کھود لوں‘‘میری مرضی کے بغیر عمران وزیراعظم نہیں بن سکتا کیونکہ ۔۔۔! آ صف زرداری نے آرمی چیف قمر باجوہ کے بارے میں حیرت انگیز دعویٰ کردیا، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے اہم ترین رہنما آصف علی زرداری نے معروف صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کہ اگر میں عمران کو وزیراعظم بننے دوں

اس کا مطلب ہے کہ میں اپنی سیاسی قبر خود کھود رہا ہوں۔ میری مرضی کے بغیر عمران جتنا زور لگا لے، وزیراعظم نہیں بن سکتا کیونکہ وہ کبھی بھی سادہ اکثریت نہیں لے گا اور جس نے بھی حکومت بنانی ہے اس کو پی پی کی حمایت چاہیے ہوگی،انہوں نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر نیازی کو ہی وزیراعظم بننے دینا ہے تو پھر کیوں نہ باجوہ صاحب سے اقتدار سنبھالنے کی فرمائش کر دوں۔انہوں نے کہا پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کا مطلب ہے کہ پی پی پی پاکستان کی سیاست سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لے جو کہ میں کبھی نہیں ہونے دوں گا۔ میں بلاول کو 2023 میں وزیراعظم بناؤں گا اور وقت یہ ثابت کرے گا کہ میری یہ بات کتنی سچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 2018 میں کسی بھی سنجرانی کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا مگر وہ بھی تب جب مجھے پنجاب میں ایک بڑا حصہ دیا جائے۔ بصورت دیگر مجھے شہبازشریف کے ساتھ بھی ہاتھ ملانے میں کوئی اعتراض نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی مل کر حکومت بنا چکے ہیں دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتے۔ یہاں تک کہ آصف زرداری اس بات پر بھی تیار ہیں کہ جیتنے کی صورت میں پرویز الہی یا شیخ رشید کو یہ عہدہ دیا جائے۔آصف زرداری نے کہا کہ یہ پیراشوٹر ابھی اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ پی پی اور نون کے اتحاد کے سامنے ڈٹ جائیں۔

ہم پاکستان کی ایک بہت بڑی سیاسی طاقت ہیں چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں اور مجھے پتا ہے دوست مجھے اور شہباز کو ایک ساتھ اپوزیشن میں کبھی نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ اگر میں نہ مانوں تو میرے خلاف کیسز بنانے کی تیاری کر لی گئی ہے اور نواز کے بعد اگلی باری میری لگانے کا پورا انتظام بھی ہے۔ مگر یہ وقت ہی بتائے گا کہ ہم کیا کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…