منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

پریشان حال شریف خاندان پر ایک اور مصیبت ٹوٹ پڑی طاہر القادری کی ڈرامائی انٹری، دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 18  جون‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 4 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی بھی ملزم قانون کی گرفت میں نہیں لایا جا سکا‘نگران حکومت کے قیام کا انتظار تھا‘امید تھی کہ قاتلوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائیگا‘اب چیف جسٹس کے اس حکم پر عمل درآمد کا انتظار ہے جس میں چیف جسٹس نے 15 دن میں روزانہ کی

بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا‘مایوس نہیں ہیں، حق اور انصاف کی جدوجہد کرتے رہیں گے‘ بیگم کلثوم نواز سمیت تمام بیماریوں کی شفاء کیلئے دعا گو ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 4 سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کی۔طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کے قیام کا انتظار تھا اور امید تھی کہ قاتلوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب چیف جسٹس آف پاکستان کے اس حکم پر عمل درآمد کا انتظار ہے جس میں چیف جسٹس نے 15 دن میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مایوس نہیں ہیں، حق اور انصاف کی جدوجہد کرتے رہیں گے اور پر امید ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا ملے گی۔الیکشن میں حصہ لینے کے سوال پر طاہر القادری نے کہا کہ موجودہ الیکشن پراسیس میں 62 اور 63 کی دفعات بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح دفن ہو رہی ہیں، تمام گندگی لانڈری میں دْھل کر دوبارہ الیکشن میں جا رہی ہے۔سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ صادق اور امین کا قانون کسی ایک کیلیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہونا چاہیے۔طاہرالقادری نے کہا کہ وہ بیگم کلثوم نواز سمیت تمام بیماروں کی شفا یابی کے لیے دْعاگو ہیں تاہم کچھ یتیم بھی ہیں جو انصاف کے لیے بھٹک رہے ہیں، انہیں بھی انصاف ملنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…