اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

پریشان حال شریف خاندان پر ایک اور مصیبت ٹوٹ پڑی طاہر القادری کی ڈرامائی انٹری، دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 18  جون‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 4 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی بھی ملزم قانون کی گرفت میں نہیں لایا جا سکا‘نگران حکومت کے قیام کا انتظار تھا‘امید تھی کہ قاتلوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائیگا‘اب چیف جسٹس کے اس حکم پر عمل درآمد کا انتظار ہے جس میں چیف جسٹس نے 15 دن میں روزانہ کی

بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا‘مایوس نہیں ہیں، حق اور انصاف کی جدوجہد کرتے رہیں گے‘ بیگم کلثوم نواز سمیت تمام بیماریوں کی شفاء کیلئے دعا گو ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 4 سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کی۔طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کے قیام کا انتظار تھا اور امید تھی کہ قاتلوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب چیف جسٹس آف پاکستان کے اس حکم پر عمل درآمد کا انتظار ہے جس میں چیف جسٹس نے 15 دن میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مایوس نہیں ہیں، حق اور انصاف کی جدوجہد کرتے رہیں گے اور پر امید ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا ملے گی۔الیکشن میں حصہ لینے کے سوال پر طاہر القادری نے کہا کہ موجودہ الیکشن پراسیس میں 62 اور 63 کی دفعات بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح دفن ہو رہی ہیں، تمام گندگی لانڈری میں دْھل کر دوبارہ الیکشن میں جا رہی ہے۔سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ صادق اور امین کا قانون کسی ایک کیلیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہونا چاہیے۔طاہرالقادری نے کہا کہ وہ بیگم کلثوم نواز سمیت تمام بیماروں کی شفا یابی کے لیے دْعاگو ہیں تاہم کچھ یتیم بھی ہیں جو انصاف کے لیے بھٹک رہے ہیں، انہیں بھی انصاف ملنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…