جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈار کے بیٹے علی مصطفی کی جانب سے ہتک عزت کا دعوی ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو بڑا سرپرائز دیدیا

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے مفرور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف ہتک عزت کے دعوی کے معاملے پر حکم امتناعی جاری کرنے اور سیشن جج کو کارروائی آگے بڑھانے سے روک دیا۔گزشتہ روز عدالت عالیہ اسلام آباد کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے سماعت کی۔

جب سماعت شروع ہوئی توعمران خان کی جانب سینئر قانون دان بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔ڈاکٹر بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ ڈار فیملی کے تمام ممبران مفرور ہیں۔ڈار فیملی کے ارکان یہاں پیش ہونے کی بجائے لندن میں ہیں۔احتساب عدالت نے اسحق ڈار کو مفرور قرار دیئے رکھا ہے۔انکی اہلیہ اور بچے بھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔دوران سماعت فاضل جج نے استفسار کیا کیا نیب نے اسحق ڈار کے بچوں کو طلب کر رکھا ہے؟ اسحق ڈار کی پراپرٹیز کیا دبئی والی ہیں ؟جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایاجی ہاں نیب نے انہیں کئی بار طلبی کے نوٹس جاری کئے۔ ایچ ڈی ایس ٹاور دبئی کی پراپرٹی ہے۔اسحق ڈار کے پیش نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے انکی سینیٹ کی رکنیت معطل کر دی عمران خان کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا عدالتی مفرور اور عدالتوں کی عزت نہ کرنے والے شخص کا سیشن کورٹ کیسے ہتک عزت کا دعوی چلا سکتا ہے۔اسحاق ڈار کیس میں سپریم کورٹ کے اصول واضح ہے وہی اصول اسلام آباد ہائی کورٹ پر لاگو ہوتے ہیں۔بعدازں عدالت نے دلائل سننے کے بعد حکم امتناعی جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیشن جج کو کاروائی سے روکتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…