جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

اب اگر آپ اپنا گھر یا دیگر جائیدادکرائے پر نہیں دے سکیں گے جب تک آپ یہ کام نہ کرلیں،حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا، شہریوں کے ہوش ہی اُڑ گئے ،بڑا جرمانہ عائد

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی)اب اگر آپ اپنا گھر یا دیگر جائیداد کرائے پر نہیں دے سکیں گے جب تک آپ یہ کام نہ کرلیں،حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا، شہریوں کے ہوش ہی اُڑ گئے ،بڑا جرمانہ عائد، تفصیلات کے مطابق مالکان کو گھر یا دیگر جائیدادیں کرائے

پر دینے پر محکمہ ایکسائز کوباضابطہ آگاہ کرنے کا پابند کرنے کا فیصلہ کر لیا ،ٹیکس چوری پر معمولی جرمانے کی رقم کو جائیداد کرائے پر دئیے جانے کی مدت سے کرائے کے برابر کرنے کی سمری بھی منظوری کیلئے بھجوا دی گئی ۔ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اکرم اشرف گوندل کے مطابق جب کوئی پراپرٹی کرایہ پر دی جاتی ہے تو اس کے مالک سے کمرشل پراپرٹی کے ریٹ کے مطابق ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن چونکہ انسپکٹرز کے پاس علاقہ بہت زیادہ ہوتا ہے تو اکثر شہری غلط بیانی سے کام لے کر ذاتی پراپرٹی بتاتے ہیں اور ٹیکس چوری کرتے ہیں۔اس سے پہلے اس طرح کی ٹیکس چوری پر معمولی جرمانہ تھا لیکن اب حکومت کو سمری بھجوائی گئی کہ اگر کوئی شہری ٹیکس چوری کرے تو اس کو جب سے اس نے گھر کرائے پر دیا ہو اس کے کرائے کے برابر جرمانہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گھر کرائے پر دینے والوں کو بھی پابند کیا جائے گا کہ وہ کرایہ نامہ ایکسائز کو دیں۔ اس سے محکمے کو کروڑوں روپے کا فائدہ ہوگا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کمرشل اور ذاتی پراپرٹیوں کا ریکارڈ مرتب کرنے میں آسانی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…