جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

قومی غیرت اور ملکی مفاد میں کام کیسے کیا جاتا ہے؟ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت فنانسنگ سے انکار پر ایوب خان نے ورلڈ بینک کے ساتھ کیا، کیا تھا جس پر وہ بھی مجبور ہو گیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) تربیلا ڈیم کے ٹینڈرز دسمبر 1966 کو کھولے گئے، سب سے کم لاگت کا ٹینڈر 259 کروڑ ڈالرز کا تھا، اس کے علاوہ 296، 366، اور 384 کروڑ ڈالرز کی لاگت کے ٹینڈرز بھی تھے۔ ایوب خان کی گورنمنٹ نے سب سے کم لاگت دینے والی کمپنی کو سیلیکٹ کیا جو کہ ایک اٹالین کمپنی تھی اور اُس کا اشتراک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ تھا

لیکن ورلڈ بینک نے اس اٹالین کمپنی کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر ایوب خان نے متعلقہ وزراء سے میٹنگ کی جس میں وزیر خزانہ محمد شعیب اور سول سرونٹ غلام فاروق کو دو چیزوں کی تصدیق کرنے کو کہا گیا ایک یہ کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس اٹالین کمپنی کی ساکھ کیسی ہے اور دوسری بات یہ کہ کیا گورنمنٹ اپنے پلے سے ڈیم بنانے کے لیے مطلوبہ وسائل پورے کر سکتی ہے، 48 گھنٹے میں جواب مل گیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کمپنی کی ساکھ اچھی ہے اور گورنمنٹ اپنے ذخائر سے بیرونی فنانس کی کمی کو پورا کر سکتی ہے پھر ورلڈ بینک کو مطلع کیا گیا کہ ہمیں آپ کے قرضے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی ہم نے ڈیم کی تعمیر اپنے ذخائر سے شروع کی تھی، بعد میں ورلڈ بینک بھی فنانس منصوبے میں شامل ہوا اور مالی مدد دی۔ آج کے ہمارے لیڈرز اُسی کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہیں جو اُن کو کمیشن زیادہ دیتی ہے، تبھی ایوب خان کے بعد آج تک کوئی بھی لیڈر ایک ڈیم تک نہیں بنا سکا، ایوب خان نے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جس کی وجہ سے تمام بڑے بڑے قومی نوعیت کے منصوبے ایوب کے دور میں شروع ہوئے اس کے بعد ہر منصوبہ سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔  ایوب خان کی گورنمنٹ نے سب سے کم لاگت دینے والی کمپنی کو سیلیکٹ کیا جو کہ ایک اٹالین کمپنی تھی اور اُس کا اشتراک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ تھا لیکن ورلڈ بینک نے اس اٹالین کمپنی کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…