جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

عوام نےعمران خان اورخیبرپختونخواپولیس کی کارکردگی دیکھ لی سردار سورن سنگھ کے قاتل کیسے بچ نکلے؟پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے مسرت زیب اپنی ہی جماعت کے قائد اور پولیس پر برس پڑیں

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سردارسورن سنگھ کےقتل کےملزمان کی رہائی پولیس کی ناقص تفتیش کانتیجہ، عوام نےعمران خان اورخیبرپختونخواپولیس کی کارکردگی دیکھ لی، وفاقی حکومت پولیس افسران کودیے گئے کارکردگی میڈلز واپس لے، پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے مسرت زیب نے خیبرپختونخواہ پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دئیے، عمران خان پر بھی تنقید۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے مسرت زیب نے سردار سورن سنگھ کے قتل کے ملزمان کی رہائی کو پولیس

کی ناقص تفتیش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نےعمران خان اورخیبرپختونخواپولیس کی کارکردگی دیکھ لی، وفاقی حکومت پولیس افسران کودیے گئے کارکردگی میڈلز واپس لے۔مسرت زیب کا کہنا تھا کہ حکومت نےکیس میں جن افسران کومیڈل سے نوازا ان سےمیڈلزواپس لیے جائیں۔ مسرت زیب نے کہا کہ عدالت نے ناقص تفتیش اورعدم ثبوت پرتمام ملزمان کوبری کردیا۔ تاہم قائداعظم میڈل پراب ان افسران کا کوئی حق نہیں بنتا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے23 مارچ کودئیے گئے میڈل واپس لئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…