جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو چیف جسٹس کی استعفیٰ دینے کی ہدایت ، خاتون نے انکار کیا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیا سزا سنا دی؟ تاریخ رقم کردی

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میرٹ کے برعکس وی سی تعیناتی ازخود نوٹس کیس کی سماعت ، لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا چیف جسٹس کے حکم کے مطابق مستعفی ہونے سے انکار، چیف جسٹس نے عظمیٰ قریشی کو معطل کرتے ہوئے تعیناتی کی انکوائری کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے میرٹ کے برعکس وی سی تعیناتی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی اس موقع پر عدالت میں پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی میں میرٹ کے برعکس وی سی کی تعیناتی کامعاملہ سینئرزکوکیسے نظراندازکیاگیا؟۔ہمیں علم ہے کہ احسن اقبال کاتعیناتی میں کیاکردار ہے۔وی سی لاہور کالج یونیورسٹی عظمیٰ قریشی نے کہا کہ احسن اقبال میرے والد کے شاگردہیں،حلفاً کہتی ہوں احسن اقبال کاتعیناتی میں کردارنہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نظام تعلیم کابیڑاغرق کردیا،یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی؟۔وزیر ہائیرایجوکیشن نے کہا کہ عظمیٰ قریشی کی تعیناتی میرے دورمیں نہیں ہوئی،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ رزاق داو¿د، عمرسیف،ظفراقبال قریشی پرمشتمل سرچ کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔وی سی لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی عظمیٰ قریشی نے مستعفی ہونے سے انکارکردیا،اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میرٹ کےخلاف وزراکے کہنے پر تعیناتیاں برادشت نہیں،چیف جسٹس نے وی سی لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کومعطل کردیا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سرچ کمیٹی شفاف طریقے سے وائس چانسلر کی تعیناتی کرے اورعظمیٰ قریشی کی تعیناتی کی انکوائری کاحکم دے دیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…