جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے سکیورٹی واپس لے لی

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد،پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)امیر جے یو آئی(ف)مولانا فضل الرحمن سے بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سپریم کورٹ نے خیبر پختونخواہ میں پولیس سکیورٹی واپس لینے کا حکم دیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے سکیورٹی واپس لے لی گئی۔واضح رہے کہ اس سے پہلےآئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ

عدالتی حکم کے مطابق صوبے بھر میں 1769 افراد سے پولیس سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے جبکہ چیف جسٹس نے پولیس کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئی جی خیبر پختونخوا نے بہت اچھا کام کیا، میں ان کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، اگر عدالت کسی کوسلیوٹ کرسکتی تو میں آئی جی کو سلیوٹ کرتا ہوں ۔ جمعہ کوسپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں عدالت عظمی کے بینچ نےسیکیورٹی سے متعلقکیس کی سماعت کی، آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں ایک ہزار 769 افراد سے پولیس کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔چیف جسٹس نے پولیس کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئی جی خیبر پختونخوا نے بہت اچھا کام کیا، میں ان کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، اگر عدالت کسی کوسلیوٹ کرسکتی تو میں آئی جی کو سلیوٹ کرتا ہوں۔بعد ازاں عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صلاح الدین محسود نے کہا کہ ہم نے 3 ماہ کے دوران میں 900 افراد سے پولیس سیکیورٹی واپس لی تھی اور اب عدالتی حکم پر مزید ایک ہزار 769 افراد سے سیکیورٹی واپس لی ہے۔ چیف جسٹس نے سیکیورٹی واپس لینے کے اقدام پرتعریف کی، تعریف اگر صرف میری بھی کی ہے تو پوری پولیس کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…