ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت پنجاب آئندہ بجٹ میں فروغ تعلیم کے فنڈز میں مزید اضافہ کرئے گی،رانا مشہود

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن رانا مشہود احمد خاں نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی نالج اکانومی کی حکمرانی کا دوسرا نام ہے، حکومت پنجاب نے نالج اکانومی کی اس اہمیت کے پیش نظر اپنے دس سالہ دور اقتدار میں شعبہ سکول کو متواتر ترقی دے کر اس کا معیار جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیا ہے، ہمارے تعلیمی ماڈل کے دنیا بھر میں چرچے ہیں۔

اور دیگر ترقی پزیر ممالک صوبہ پنجاب کی تعلیمی پالیسیوں کو مسلسل فالو کر رہے ہیں۔یہ بات انہوں نے کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پاکستان سکولز کانفرنس2018ء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر رانا مشہودنے کہا کہ حکومت پنجاب آئندہ بجٹ میں فروغ تعلیم کے فنڈز میں مزید اضافہ کرئے گی کیونکہ دس سالوں میں کی جانے والی تعلیمی اصلاحات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غربت اور بے روزگاری سے نجات کا واحد راستہ فروغ تعلیم سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) آئندہ انتخابات جیت کر تعلیمی اصلاحات کے عمل کو تیز تر کرئے گی ا وروہ وقت دور نہیں جب صوبہ پنجاب علم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نیا ’’بنگلور‘‘اور ’’سلی کون ویلی‘‘بن کر ابھرے گا اور دنیا بھر سے طالبعلم حصول علم کیلئے پنجاب آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب نے فروغ تعلیم کے عمل میں بے وسیلہ طبقات کی بھر پور شمولیت کو یقینی بنایا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے توسط سے 30لاکھ سے زائد مستحق طالبعلم مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ نے ساڑھے تین لاکھ مستحق مگر ذہین طالبعلموں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی ممکن بنائی ہے۔چیف ایگزیکٹیو کیمبرجاسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن مائیکل اوسیلیون نے کہا کہ پاکستان سکولز کانفرنس2018ء کے انعقاد کا مقصد دنیا بھر میں علمی تبدیلیوں اور رائج رجحانات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔انہوں نے بہترین نصاب، ہم نصابی سرگرمیوں، ٹیچرز کی کپیسٹی بلڈنگ اور بہترین تعلیم ماحول کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…