ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل ایسے نہیں جو حل نہ ہوں،بھارتی ہائی کمشنر

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (آئی ا ین پی) بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں سفارتکار پیدل گھوم سکتے ہیں‘ ستر سال سے اپنائی گئی پالیسی کسی کے لئے فائدہ مند نہیں ہے‘ مشکلات کے باوجود تجارت بڑھانے پر بات کرنے کی ضرورت ہے‘ غربت‘ پسماندگی اور ناخواندگی دونوں ممالک کے مسائل ہیں۔ جمعہ کو بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریہ نے لاہور چیمبر آف کامرس کے تاجرون سے ملاقات کی۔

جمعہ کو پاکستان میں تعینات نئے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا نے لاہور چیمبر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صنعت کاروں اور تاجروں سے ملاقات کی۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے صنعت کاروں نے بھارتی ہائی کمشنر سے شکوہ کیا کہ تاجروں اور عام لوگوں کو ویزوں کا اجرا مشکل ہو گیاہے، عوام اور تجارت کا راستہ روکنا دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے لہذا راستے کھولے جائیں اورسفر آسان کیا جائے۔تاجروں نے بھارتی ہائی کمشنر سے کہا کہ بھارتی حکومت کا رویہ بہتر نہیں اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔بھارتی ہائی کمشنر نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کل پہلی مرتبہ لاہور پہنچا ہوں یہ کہاوت سچ ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ پاکستان اور بھارت میں سفارتکار پیدل گھوم سکتے ہیں لیکن ویزے کا حصول بڑا مسئلہ ہے۔ کوشش کروں گا کہ تاجروں کو زیادہ ویز ے جاری ہوں، ایک دوسرے سے تجارت کو فروغ ہی مقصد ہونا چاہیے۔اجے بساریا نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ہمسائے ہیں جو ہمیشہ رہیں گے، ہمیں مل جل کر بات چیت سے ہی آگے بڑھنا ہوگا، میری کوشش ہے کہ برف پگھلے اور مسائل کم ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ آپس میں ملنا چاہتے ہیں، اختلافات ایسے نہیں کہ حل نہ ہوں، ہم سب کو مل کر امن کی بات کرنی چاہیے، ہمیں سیکورٹی ایشوز کو الگ اور دیگر معاملات کو الگ دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ستر سال سے اپنائی گئی پالیسی کسی کے لئے فائدہ مند نہیں دونوں ممالک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ نوجوان نسل ماضی کی تلخیوں سے دور ہے۔۔ غربت‘ پسماندگی‘ ناخواندگی دونوں ممالک کے مسائل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…