ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جب میرے ہاتھ سے میرا قلم چھینا گیا، میری کتابیں چھینی گئیں، ملالہ یوسف زئی کے والہانہ استقبال پر تاثرات

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ہمیشہ سے ہی تعلیم کے فروغ اور ہونہار بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات اٹھاتے رہے ہیں، ایسے ہی 20 نومبر 2011 کو پورے پاکستان سے اعلیٰ پوزیشن یافتہ بچوں کو ان کی حوصلہ افزائی کی غرض سے پنجاب مدعو کیا گیا تو انہی ہونہار بچوں میں ایک بچی ملالہ یوسفزئی بھی تھیں جو آج پوری دنیا میں پاکستان کی بیٹی اور علم کی علمبردار کے نام سے جانی جاتی ہے،

ملالہ یوسف زئی نے اپنے والہانہ استقبال اور تکریم پر اپنے دلی جذبات اور تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس جیسا استقبال آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا میں شہباز شریف صاحب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں بلایا اور میری اور ان تمام بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔اس طرح ان بچوں کے ارادے اور مضبوط ہوں گے اور یہ ملک ترقی کرے گا۔ آپ بہت خوش نصیب بچے ہیں کہ آپ کے سر پر ان جیسے لیڈرز کا سایہ ہے،کیونکہ ان کوتعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہے۔۔ جیسا کہ جب میرے ہاتھ سے میرا قلم چھینا گیا میری کتابیں چھینی گئیں..تو مجھے اندازہ ہوا۔ مجھے خوشی ہے کہ آج لوگوں کو ایک جیسے حقوق مل رہے یہاں پورے پاکستان سے بچے بیٹھے ہیں گلگت بلتستان ہو، خیبرپختونخوا ہو یا پنجاب یہاں سب برابر ہیں۔  وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ہمیشہ سے ہی تعلیم کے فروغ اور ہونہار بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات اٹھاتے رہے ہیں، ایسے ہی 20 نومبر 2011 کو پورے پاکستان سے اعلیٰ پوزیشن یافتہ بچوں کو ان کی حوصلہ افزائی کی غرض سے پنجاب مدعو کیا گیا تو انہی ہونہار بچوں میں ایک بچی ملالہ یوسفزئی بھی تھیں جو آج پوری دنیا میں پاکستان کی بیٹی اور علم کی علمبردار کے نام سے جانی جاتی ہے، ملالہ یوسف زئی نے اپنے والہانہ استقبال اور تکریم پر اپنے دلی جذبات اور تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس جیسا استقبال آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…