ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کی جانب سے خاص تحفہ ،پاکستان ہر سال اربوں روپے بچا سکے گا

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

مانسہرہ(آن لائن)پڑوسی ملک ترکی کی طرف سے تحفہ میں دی جانے والی کالی چائے تیار کرنے والی فیکٹری اپریل کے آخری ہفتہ میں موسم بہار کی پیداوار شروع کر دے گی۔ ترکی کے چار رکنی ماہر انجینئرز نے ادارہ کے سائنسدانوں کے ساتھ ملکر قومی ادارہ برائے چائے اور اعلی قدر کے پودوں کے تحقیقاتی ادارہ این ٹی ایچ آر آئی شنکیاری میں فیکٹری کی تنصیب کا کام شروع کر دیا ہے۔

ادارہ کے ذرائع کے مطابق ترکی میں چائے کے سب سے بڑے ادارہ چائیکور نے پاکستان ایگریکلچرریسرچ کونسل کو کالی چائے تیار کرنے والی خودکار فیکٹری تحفہ میں دی اور نہ صرف یہ بلکہ اس کی تنصیب کیلئے چار ماہر انجینئرز کو بھی بھیجا جو گذشتہ ہفتہ پاکستان پہنچ گئے اور انہوں نے این ٹی ایچ آر آئی شنکیاری میں فیکٹری کی تنصیب کا کام شروع کر دیا جس کا کام اس ماہ مکمل ہو جائے گا اور فیکٹری مختلف اقسام کی کالی چائے خودکار طریقہ سے تیار کرنا شروع کر دے گی۔ماہرانجینئرز کا کہنا ہے کہ فیکٹری یومیہ 400 سے 500 کلوگرام کالی چائے پراسس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس فیکٹری کی پیداوار سے نہ صرف چائے کے قومی باغات سے بلکہ زمینداروں کے ہاں چائے کے پودوں کی کاشت سے خام پتے قابل استعمال ہو سکیں گے جس سے تجارتی بنیادوں پر چائے کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی توقع کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ 1999 میں چین سے درآمد فیکٹری بھی نصب کی گئی تھی جو کلی طور پر مینول تھی جس میں لیبرکے زیادہ اخراجات کے علاوہ معیار اور مقدار کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی کم تھی۔ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ پرانی فیکٹری کو اگر صوبہ کے دیگر حصوں میں تھوڑی تبدیلی کے ساتھ لگایا جائے تو ملک میں چائے کی پیداوارکے فروغ کو تقویت مل سکے گی، نئی خودکار فیکٹری کی تنصیب سے ثابت ہوا کہ ملک میں چائے کی کاشت سو فیصد کامیاب ہے، اگر حکومت اپنی پالیسی دیگر ٹی گروئنگ ممالک کی طرح اپنائے تو ملک چائے کی پیداوار میں خودکفیل ہو کر اربوں روپے کا زرمبادلہ بچا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…