جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان میں1 195ء میں فی کس 5260 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا اب یہ مقدار کم ہو کتنے کیوبک میٹر فی کس رہ گئی؟ حیرت انگیزانکشافات،خطرناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 24  مارچ‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فیصل آباد  (مانیٹرنگ ڈیسک)  فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرشبیر حسین چاولہ نے کہا ہے کہ1 195 میں فی کس 5260 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا اب یہ مقدار اب کم ہو کرصرف 9 08 کیوبک میٹر فی کس رہ گئی2030 ء تک پاکستان ٹاپ واٹر سٹریس 33 ممالک میں شامل ہو جائیگا خشک سالی اور آلودہ پانی کی وجہ سے پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے وہ گز شتہ روز ورلڈ واٹر ڈے کے بارے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف 30 دن کیلئے پانی کا ذخیرہ ہونا چاہیئے جس کیلئے نئے نئے ڈیم تعمیر کرنے کی ضرورت ہے دسیتاب صاف پانی کو صرف پینے کیلئے مختص کیا جائے جبکہ آلودہ شدہ پانی کو ری سائیکل کرکے صنعتوں اور زاعت کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے اس لئے پاکستان میں پانی کو ری سائیکل کرنے کے مئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں کم از کم 10 تا 15 فیصد رقم واٹر سیکٹر کیلئے وقف کرے انہوں نے مزید کہا کہ تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 36 فیصد کم ہو گئی ہے اس لئے دیامیر ، بھاشا ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے ہم ہر سال 25 ارب روپے کا پانی استعمال کئے بغیر سمندر میں ڈال رہے ہیں جس سے بچنے کیلئے ڈیموں اور ریزروائر کی تعمیر کی ضرورت ہے ڈائریکٹر محکمہ آبپاشی انجینئر غلام ذاکر سیال نے پانی کے استعمال اور بچاؤ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پانی کو بچانے کے موجودہ طریقے کافی مہنگے ہیں اس لئے متبادل طریقہ کار کے ذریعے اس مألے کو حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آبادانڈسٹریل شہر ہے اس لئے یہاں سب سے زیادہ پانی کا استعمال ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ واسا اور انڈسٹریل سیکٹرز نے اس مألے سے نمٹنے کیلئے اب کیمیاوی طریقہ اختیار کیا ہے جس سے پانی کا استعمال کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو بچانے کیلئے پرائمری ٹریٹمنٹ کرنے کی ضرورت انفرادی طور پر ہے جبکہ واسا کو شش کر رہا ہے کہ اجتماعت کی بنیاد پر بھی ان مسائل کو حل کیا جائے انہوں نے مدوآنہ اور پہاڑنگ ڈرینز پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر کے بارے میں کہا کہ ہمیں اس کیلئے انڈسٹریل سیکٹر کے تعاون کی ضرورت ہے اگر ہر ادارہ آلودہ پانی کی شرح اور مقدار میں صرف 10 سے 20 فیصد بھی کمی کرے تو اس سے سنگین صورتحال سے بچا جا سکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…