جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

نواز شریف نے کیسے اپنے دوسرے وزارت عظمیٰ کے دور میںآج کے چیف جسٹس اور اس وقت کے سیکرٹری لا کو لیگی کارکنوں کی کھلی کچہری لگا کر بے عزت کیا، کھلی کچہری میں جسٹس ثاقب نثار کیساتھ کیا سلوک کیا گیا، جاوید چوہدری کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 23  مارچ‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم میں نواز شریف کے دوسرے وزارت عظمیٰ کے دور میں آج کے چیف جسٹس اور اس وقت کے سیکرٹری لا ثاقب نثار کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نواز شریف اور جسٹس ثاقب نثار کے درمیان اختلافات اور دوریاں پیدا شدت اختیار کر چکی تھیں۔ جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ اس وقت کے

وزیراعظم نواز شریف کو حکومت کے سیکرٹری لا ثاقب نثارکے خلاف بھڑکانے میں اس وقت کے اٹارنی جنرل کا اہم کردار تھا، وہ آئی بی کے سپریم کورٹ میں لگے کیسز پر پیش ہونے کیلئے آئی بی سے 35لاکھ روپے فیس وصول کرنا چاہتے تھے جس پر آئی بی کے سربراہ نے سیکرٹری لا ثاقب نثار سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں جسٹس صمدانی کو وکیل کرنے کی اجازت دے دیں‘ میاں ثاقب نثار نے فوراً منظوری دے دی‘ اٹارنی جنرل شکار ہاتھ سے نکلنے پر لاء سیکرٹری کے خلاف ہو گئے‘ یہ ان سے لڑ پڑے‘انہوں نے وزیراعظم کے کان بھی بھر دیئے‘وزیراعظم پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے بے شمار وکلاء‘ کارکنوں اور ایم این ایز کو بھی لاء سیکرٹری پر اعتراضات تھے‘ وزیراعظم نے ایک دن اٹارنی جنرل سمیت تمام شکایات کنندگان کو وزیراعظم آفس طلب کر لیا‘ یہ دو اڑھائی سو لوگ تھے‘ وزیراعظم نے ان سب کو آڈیٹوریم میں جمع کیا‘ لاء سیکرٹری میاں ثاقب نثار کو بلایا اور کھلی کچہری لگا دی‘ اٹارنی جنرل سمیت ہر شخص وزیراعظم کو اپنی شکایت سناتا تھا اور وزیراعظم لاء سیکرٹری سے پوچھتے ”جی میاں صاحب جواب دیں“ زیادہ تر شکایات تقرریوں سے متعلق تھیں‘شکایت کنندگان کا کہنا تھا‘ ہم پرانے مسلم لیگی ہیں‘ ہماری حکومت ہے‘ آپ نے مجھے فلاں ڈیپارٹمنٹ میں لاء آفیسر بنانے کا حکم دیا تھا لیکن لاء سیکرٹری نے

آپ کے حکم کی پرواہ نہیں کی‘ لاء سیکرٹری کا جواب ہوتا تھا ”سر ان کی ڈگری جعلی ہے‘ ان کا تجربہ پورا نہیں‘ میں انہیں کیسے لگا دوں“ لیکن کارکنوں کا کہنا تھا‘ وزیراعظم سپریم ہیں‘ ان کا حکم آخری ہونا چاہیے‘ میاں ثاقب نثار نے وہاں کھڑے کھڑے فیصلہ کر لیا میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ”کھلی کچہری“ ختم ہوئی تو یہ خالد انور سے ملے اور اپنا استعفیٰ پیش کر دیا‘

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…