ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جولائی 2016 میں بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی قندیل بلوچ کے مقدمے کا کیا بنا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں جج کی رخصت کے باعث مفتی عبدالقوی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔قندیل بلوچ کے قتل کیس میں نامزد گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز کو عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ ملزم مفتی قوی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔تاہم جج کی رخصت کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی اور کیس کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

و اضح رہے کہ جولائی 2016 میں ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، مقدمے میں مقتولہ کے کزن حق نواز کو بھی نامزد کیا گیا، یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔ مفتی عبدالقوی، قندیل بلوچ کے ہمراہ اس وقت منظرعام پر آئے تھے جب 2016 میں رمضان المبارک کے دوران ماڈل نے چند سیلفیز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔بعدازاں قندیل بلوچ کے ساتھ متنازع سیلفیز کو جواز بناکر ان کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 کے تحت مقتولہ کے بھائی کو اکسانے کے الزام میں مقدمے میں نامزد کردیا گیا تھا معروف ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں جج کی رخصت کے باعث مفتی عبدالقوی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔قندیل بلوچ کے قتل کیس میں نامزد گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز کو عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ ملزم مفتی قوی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔تاہم جج کی رخصت کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی اور کیس کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔ و اضح رہے کہ جولائی 2016 میں ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، مقدمے میں مقتولہ کے کزن حق نواز کو بھی نامزد کیا گیا، یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…