ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمت کو لگنے والی آگ کے بعد سونے نے بھی جم کر اپنا رنگ دکھادیا، اچانک بڑی قلابازی، خریدارششدر

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے جو 116 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 50 پیسے کا اضافہ ہوگیا ہے جبکہ دوسری جانب سونے کی قیمتوں میں نو سو روپے فی تولہ اضافہ ہوگیا۔ ڈالر کی قیمتوں کو لگنے والی آگ کی تپش ملکی صرافہ مارکیٹ تک پہنچنے لگی۔ سونے کی قیمتوں میں بھی نو سو روپے فی تولہ تک اضافہ ہوگیا۔

فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق مارکیٹ میں پیسے کی قدر میں کمی آرہی ہے اور ڈالر مسلسل اوپر کی طرف جارہا ہے جس کی اوپن مارکیٹ میں قیمت 116 روپے ہوگئی ۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 116 روپے کا ہونے کے بعد انٹر بینک مارکیٹ میں اس کی قیمت میں 50 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ڈالر 115 روپے 50 پیسے پر ٹریڈ ہورہا ہے۔صدر فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں یورو 3روپے مہنگا ہوکر 140روپے 50 پیسیپرپہنچ گیا جب کہ برطانوی پاؤنڈ 4 روپے مہنگا ہوکر 160 روپے کا ہوگیا ہے۔فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال 80 پیسے مہنگا ہوکر 30.60 روپے پرپہنچ گیا جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 70 پیسے مہنگا ہوکر 31.20 روپے کاہوگیا۔معاشی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بیرونی قرض بڑھ گیا ہے اور 8 ہزار ایک سو ارب سے تجاوز کر گیا ۔معاشی تجزیہ کار اسد رضوی کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں اور بیرونی قرض اور دیگر ادائیگوں پر ہفتہ وار 20 سے 25 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔معاشی تجزیہ کار مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ ڈالر کی اونچی اڑان کے بعد مہنگائی کا دور شروع ہوگا، گاڑیاں اور دیگر چیزیں مہنگی ہوں گی۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے جو 116 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 50 پیسے کا اضافہ ہوگیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…