ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’سکول آف کرپشن کا پرنسپل سامنے آگیا‘‘پاکستانی حکمرانوں کو کرپشن سکھانے والا یہ پڑھالکھا شخص جانتے ہیں کون ہے؟ نیب اگراس کو پکڑ کر مروڑے تو سب کچھ اگل دیگا، اب تک کیا بڑی وارداتیں کر رکھی ہیں؟ رئوف کلاسرا کےتہلکہ خیز انکشافات

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وفاقی سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان وہ وارداتیا ہے جس نے ہرحکومت کے ساتھ مل کر وارداتیں کیں، اگر نیب اس کی گردن پکڑ کر مروڑ دے تو پچھلے 20 سال کے فراڈز کا پیسہ باہر آجائے گا، معروف صحافی رئوف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی رئوف کلاسرا

کا کہنا تھا کہ سا بق وفاقی سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان وہ وارداتیا ہے جس نے ہرحکومت کے ساتھ مل کر وارداتیں کیں، اگر نیب اس کی گردن پکڑ کر مروڑ دے تو پچھلے 20 سال کے فراڈز کا پیسہ باہر آجائے گا۔ رئوف کلاسرا نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ سا بق وفاقی سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان حکمرانوں کو کرپشن کے طریقے بتاتے ہیں ، مالی غبن پر آصف زرداری کے ساتھ جیل میں رہے اور جب مشرف کا دور آیا تو ان کا ان کے ساتھ دلی(بھارت) کا کوئی تعلق نکل آیا جس کے بعد مشرف نے کہا کہ اتنے بڑے وارداتیے سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے اور انہیں وزارت خزانہ کا ترجمان لگادیا ، یہ اس دور میں شوکت عزیز کے انتہائی چہیتے رہے۔ اس کے بعد اسحاق ڈار نے کہا کہ اتنے بڑے وارداتیے کو زرداری کے ساتھ نہیں ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں جتنے بھاری قرضے لیے گئے یہ ڈاکٹر وقار مسعود لے کر گئے ہیں۔ بھارتی کمپنی ریلائنس کو جو قرضہ ڈھائی فیصد پر ملا یہ ساڑھے 8 فیصد پر لے کر آئے اور یہ کسی کو جواب دہ بھی نہیں رہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انہوں نے چیئرمین سلیم مانڈوی والا کو جھاڑ بھی پلادی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وقار مسعود ہی موجودہ حکومت کی مدت شروع ہونے پر 480 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے روح رواں ہیں،

اس کے علاوہ ان پر کسٹم کے 326 ارب روپے اور ڈاکٹر عاصم کے سارے کیسزبھی انہی کے گرد گھومتے ہیں۔ نیب تھوڑی سی ہمت کرے اور انہیں اٹھائے اگر پچھلے 20 سال کے فراڈ پکڑنے ہیں تو اس بندے کے پاس ساری تفصیلات موجود ہیں اور یہ وہ انکشافات کریں گے کہ سب حیران رہ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…