جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے اندر فوج کارروائی ،امریکہ نے حتمی اعلان کردیا،بھارتی اور افغان میڈیا کا منہ لٹک گیا

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن) امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ امریکا ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کہ وہ افغانستان سے بھاگے ہوئے دہشتگردوں کے تعاقب میں پاکستان میں کوئی کارروائی کرے۔ پینٹاگون ترجمان لیفٹننٹ کرنل مائک انڈریوس نے بھارتی اور افغان میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ان عسکریت پسندوں کو اپنی سرحدی حدود میں رکھنا چاہتا ہے تو رکھے لیکن وہ افغانستان میں امن اور استحکام کو متاثر نہیں کرے۔انہوں نے

کہا کہ ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں کہ ہم پاکستان میں جائیں اور ہم نے پاکستان کی علاقائی خودمختاری کے احترام میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔پینٹاگون ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی صرف افغان سرحد کے اندر ہی کام کرتے ہیں اور ان کے پاس سرحد پار کرنے کا اختیار نہیں اور اگر یہ اختیار حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ ہے تو وہ بہت ہی مخصوص حالات میں ہوگا اور لیکن وہ معمولی نہیں ہوگا۔لیفٹننٹ کرنل مائک انڈریوس نے بتایا کہ مخصوص حالات کا معمول کے ااپریشن میں اطلاق نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے افغانستان میں موجود امریکی کمانڈرز کے لیے پاکستان کی سرحد پار کرنا عام دن کے آپریشنل قوانین کے مطابق نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر طالبان پاکستان میں رہتے ہیں اور ہم افغانستان کے صوبوں اور اضلاع کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو میرے خیال سے یہ وہ تجارت ہوگی جو ہم چاہتے ہیں اور یہ پاکستان میں موجود لوگوں کے لیے ضروری نہیں لیکن افغانستان کے عوام کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رواں برس افغان فورسز کی توجہ اور طالبان کے قبضے میں موجود صوبوں کو واپس لینے پر مرکوز ہے اور جو کچھ پاکستان میں ہورہا، ہمار اس پر کوئی کنٹرول نہیں اور پاکستان کے عوام ہی اسے حل کرسکتے ہیں کیونکہ اب ہماری ساری توجہ افغانستان پر ہے۔

پینٹاگون ترجمان نے کہا کہ امریکا کو امید تھی کہ پاکستان طالبان یا دیگر دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا کیونکہ یہ نہ صرف ہماری افغانستان بلکہ پاکستان، بھارت اور پورے خطے کو تحفظ دے گا۔لیفٹننٹ کرنل مائک انڈریوس کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کی سیکیورٹی امداد تب تک بحال نہیں کرے گا جب تک اسلام آباد

واشنگٹن کے دہشتگردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق خدشات دور نہیں کرتا۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حقانی نیٹ ورک، افغان طالبان اور دیگر گروپوں کی حمایت کا الزام لگا کر پاکستان کی ایک ارب ڈالر کی سیکیورٹی امداد معطل کردی تھی۔بریفنگ کے دوران کرنل اینڈریوس کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ بہت ایماندار رہی ہے جبکہ اسلام ا?باد کی بند امداد کو کھولنے کے لیے امریکی اقدامات سے قبل پاکستان کے مسائل سننے کے لیے امریکا نے بات چیت کے لیے تمام راستے کھولے رکھے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…