ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کی ادویات مہنگی مگر ڈاکٹرز کیا کام کر کے انہیں مہنگا بنا دیتے ہیں، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے اسٹنٹ کے بعد سستی ادویات کیلئے بھی ہدایات جاری کر دیں

datetime 20  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے میڈیکل سٹنٹس سے متعلق قائم کمیٹی کی سفارشات پر 3 ماہ میں من و عن عملدرآمد کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے غیر معیاری میڈیکل اسٹنٹ کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے اسٹنٹس کے حوالے سے قائم کمیٹی کی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی تیار کردہ سفارشات بہت جامع ہیں،

ان پر 90 روز میں عمل ہونا چاہیے، اطلاق سرکاری اور نجی ہسپتالوں پر ہوگا، کمیٹی کی رپورٹ پر 90 روز میں من وعن عمل کر کے عملدرآمد رپورٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کو پیش کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ دل کے مریض کی ادویات کیلئے کیا کریں گے ؟ جو کمپنیاں جعلی ادویات بنا رہی ہے ان کو چیک کریں گے۔آر آئی سی سربراہ ڈاکٹر اظہرکیانی نے کہا کہ ادویات اتنی مہنگی نہیں ہے لیکن نسخہ مہنگا لکھا جاتا ہے ٗدل کے مریض کا 500 سے 1400 روپے کا ماہانہ نسخہ بنتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شوگر، بلڈپریشر اور دل کے مریض کیلئے ہمیں کوئی ادویات کا نسخہ بنا کر دیں، اسٹنٹ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اسٹنٹ کی قیمت ایک لاکھ روپے تک آجائے گی، ڈائیلسز کے حوالے سے ڈاکٹرادیب رضوی سے ملاقات کی، اسٹنٹ کی قیمت ازخود نوٹس لینے کے بعد کم ہوئی ہے ٗمقدمے کے تمام فریقین نے عدالت کی بہت مدد کی۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی کنڈیشن بہت شاندار ہونی چاہیے۔واضح رہےکہ اسٹنٹ کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے دل کے مریضوں کو ڈالے جانے والے سٹنٹ کی قیمتوں کے تعین کیلئے ہدایات جاری کی تھیں جس کے بعد سٹنٹ کی قیمتیں اعتدال پر آنا شروع ہو گئی تھیں۔چیف جسٹس نے ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈز کی صورتحال کو بھی بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…