جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا خواب غریب گھرانوں کے نوجوانوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر کے پورا کیا جاسکتا ہے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی

datetime 19  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) اعلیٰ تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ ریسرچ کوفروغ دیں اور طلباء کی کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے والے نوجوانوں کو چاہئے کہ اب وہ بھی اپنے ان پس ماندہ سکولوں کے طلبہ و طالبات کیلئے کچھ کریں جہاں سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے۔ میں خود پانچویں کلاس سے پی ایچ ڈی تک وظیفوں پر پڑھا ہوں اس لئے میں اس درد کو بہتر طور پر محسوس کرسکتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار کاروان علم فاؤنڈیشن کے بانی و سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے آج ’’سکالرشپ ہولڈرز کنونشن2018ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے سینئر صحافیوں، ماہر تعلیم، سماجی شخصیات اوراساتذہ و طلبہ نے بھی خطاب کیا۔کنونشن کی صدارت سماجی کارکن و ماہر تعلیم احسان اللہ وقاص نے کی جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی سینئر کالم نویس و اینکر جاوید چودھری تھے۔کنونشن میں چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان سے چار سو سے زائد طلبہ، ان کے والدین اور تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ کاروان علم فاؤنڈیشن کے بانی و سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے طلباؤ طالبات سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس فاؤنڈیشن کا آغاز دس ہزار روپے سے ہوا تھا محب وطن پاکستانیوں کے تعاون سے اب اس کے فنڈز کروڑوں روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا خواب غریب گھروں کے نوجوان کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرکے پورا کیا جا سکتا ہے۔ مہمان خصوصی جاوید چودھری نے طلبا و طالبات کو کیریئر کونسلنگ کے حوالے سے لیکچر دیا۔ باصلاحیت طلبہ کی پذیرائی، فروغ تعلیم اور قومی یکجہتی کی مظہر اس تقریب سے پُرعزم باہمت طلبہ، والدین، اساتذہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ خصوصی طور پر گلگت بلتستان سے آئی طالبہ نگہت محسود نے پر جوش تقریر کی اور پشتو زبان میں شاعری بھی سنائی۔ باہمت معذور طلبہ نے اپنی روداد سنائی کہ کاروان علم فاؤنڈیشن کے تعاون سے نہ صرف انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ آج وہ اچھے عہدوں پر فائز ہیں اور ملک پاکستان کا سرمایہ بن چکے ہیں۔

طلباؤ طالبات نے اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں شعر و شاعری بھی سنائی اور شرکاء سے خوب داد سمیٹی۔ یاد رہے کہ اس کنونشن میں ملک بھرکے 36 میڈیکل کالجز 49 جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں سے طلبہ شریک ہوئے جس میں ایم بی بی ایس، ڈی فارمیسی، ایم ایس سی، ایم اے، بی ایس انجینئرنگ، بی ایس آنرز، ایف ایس سی/ ایف اے کے طلبہ شریک ہوئے تھے۔ تقریب میں ایوب صابر اظہار، ندیم شفیق، خالد ارشاد صوفی، طیب اعجاز قریشی، ذوالفقار راحت، گل نوخیز اختر، شاہد نذیر چوہدری، نوید چوہدری، ندیم نظر، حبیب اکرم، افتخار مجاز، اسد اللہ غالب اور زابر سعید بدر نے بھی شرکت کی۔ مہمانان گرامی، سینئر صحافیوں و کالم نگاروں کو کاروان علم فاؤنڈیشن کی جانب سے تحائف و ایوارڈز بھی دیے گئے جبکہ تقریب کے اختتام پر طلبہ کو بھی تعریفی سرٹیفیکٹس اور تحائف دیے گئے۔

 

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…