ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مشال خان قتل،مطلوب اشتہاری ملزم نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا

datetime 19  مارچ‬‮  2018 |

مردان (سی پی پی)مشال قتل کیس میں مطلوب اور اشتہاری قرار دئے جانے والے ملزم صابر مایار نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ مطلوب ملزم اشتہاری اسد کاٹلنگ کی گرفتاری کے لیے پولیس کارروائیاں جاری ہیں۔ مردان کے ڈپٹی پولیس آفیسر (ڈی پی او)ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق ملزم صابر مایار گذشتہ 11 ماہ سے مفرور تھا۔ڈی پی او نے مزید بتایا کہ کیس کے دوسرے مطلوب ملزم اسد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جرنلزم کے طالب علم 23 سالہ مشال خان کو گذشتہ برس 13 اپریل کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر فائرنگ اور تشدد کرکے ابدی نیند سلادیا تھا۔واقعے کے دن ہی اس قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے مشال کے قتل کا ازخود نوٹس بھی لیا اور جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی۔جے آئی ٹی نے مشال کو بے قصور قرار دیا جب کہ مقدمے میں ویڈیو کی مدد سے 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا اور ان میں سے 58 کو گرفتار کرلیا گیا، جن میں فائرنگ کا اعتراف کرنے والا ملزم عمران بھی شامل تھا جبکہ پی ٹی آئی کا تحصیل کونسلر عارف، طلبا تنظیم کا رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیا مفرور تھے۔رواں ماہ 8 مارچ کو خیبرپختونخوا پولیس نے مشال قتل کیس کے روپوش مرکزی ملزم عارف خان کو بھی مردان سے گرفتار کرلیا تھا اور اب ملزم صابر مایار نے بھی خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے جبکہ ملزم اسد ضیا کی تلاش جاری ہے۔دوسری جانب گذشتہ ماہ 7 فروری کو ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال قتل کیس کے فیصلے میں 58 گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم عمران کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جب کہ دیگر 5 ملزمان میں سے فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان کو عمر قید جب کہ ملزمان مدثر بشیر اور بلال بخش کو عمر قید کے ساتھ ساتھ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزائیں سنائیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں 25 دیگر ملزمان کو ہنگامہ آرائی، تشدد، مذہبی منافرت پھیلانے اور مجرمانہ اقدام کے لیے ہونے والے اجتماع کا حصہ بننے پر 4، 4 سال قید جب کہ 26 افراد کو عدم ثبوت پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم، مشال خان قتل کیس کے فیصلے کے خلاف مقتول کے اہل خانہ نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…