ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

میرے دادا میاں شریف کی وفات پر ہمیں کس چیز کی پیشکش کی گئی ؟اٹک قلعے میں میری دادی کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا؟ حمزہ شہباز کے صبر کا پیمانہ لبریز، کھل کر بول پڑے

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

سانگلہ ہل(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ چور دروازے سے آنے اور کنٹینر پر چڑھنے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا ۔ اتوار کو سانگلہ ہل میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے جب ہمارے کارکنوں کے گھروں میں پولیس دیواریں پھلانگ کر داخل ہوئی، ان کارکنوں کے بچے آج بھی خوف محسوس کرتے ہیں،

عمران خان سے میں کہتا ہوں کہ چور دروازے سے اور کنٹینر پر چڑھنے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا ، آج سے 20سال قبل اپوزیشن کا دور تھا، ہم ایک علاقے سے گزر رہے تھے اور وہاں شدید فائرنگ ہورہی تھی، لوگوں نے کہا کہ نواز شریف آپ سائڈ پر ہوجائیں مگر نواز شریف نے انکار کیا اور کہا میں اپنے کارکنوں کے ساتھ ہوں، عدلیہ بحالی تحریک میں باہر کے ملک سے ہمیں فون آئے کہ آپ نہ نکلیں مگر نوازشریف نے ایسا نہیں کیا اور عدلیہ بحالی کیلئے نکلے ۔انہوں نے کہا کہ میرے دادا میاں شریف کی وفات پر ہمیں کہا گیا کہ ہم سے ڈیل کرلو ، میں نے تنہا اپنے دادا کو لحد میں اتارا، اٹک قلعے میں میری دادی نواز شریف سے ملنے کیلئے گھنٹوں انتظار کرتی تھیں، کون کون سی داستان سنو گے مجھ سے۔ حمز ہ شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان تم کبھی جہانگیر ترین کے جہاز پر پھرتے ہو اور کبھی کنٹینر پر چڑھتے ہو،انہوں نے کہاکہ لودھراں میں عوام نے جہانگیر کا جہاز کرش کر دیا انہوں نے کے میاں محمد بخش کا کلام پڑھ کر سنایا کہ باپ مرے سر ننگا ہوئے، بھائی مرے کنڈ خالی، ماواں بعدمحمد بخشا کون کرے رکھوالی۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ نواز شریف نے بجلی کے کارخانے لگا کر ملک سے اندھیروں کو ختم کردیا، پاکستانی قوم دووقت کی روٹی کیلئے محنت مزدوری کرتی ہے اور کسی کی ماں آپریشن کیلئے چند ہزار روپے نہ ہونے کے باعث دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…