جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

میرے دادا میاں شریف کی وفات پر ہمیں کس چیز کی پیشکش کی گئی ؟اٹک قلعے میں میری دادی کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا؟ حمزہ شہباز کے صبر کا پیمانہ لبریز، کھل کر بول پڑے

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

سانگلہ ہل(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ چور دروازے سے آنے اور کنٹینر پر چڑھنے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا ۔ اتوار کو سانگلہ ہل میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے جب ہمارے کارکنوں کے گھروں میں پولیس دیواریں پھلانگ کر داخل ہوئی، ان کارکنوں کے بچے آج بھی خوف محسوس کرتے ہیں،

عمران خان سے میں کہتا ہوں کہ چور دروازے سے اور کنٹینر پر چڑھنے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا ، آج سے 20سال قبل اپوزیشن کا دور تھا، ہم ایک علاقے سے گزر رہے تھے اور وہاں شدید فائرنگ ہورہی تھی، لوگوں نے کہا کہ نواز شریف آپ سائڈ پر ہوجائیں مگر نواز شریف نے انکار کیا اور کہا میں اپنے کارکنوں کے ساتھ ہوں، عدلیہ بحالی تحریک میں باہر کے ملک سے ہمیں فون آئے کہ آپ نہ نکلیں مگر نوازشریف نے ایسا نہیں کیا اور عدلیہ بحالی کیلئے نکلے ۔انہوں نے کہا کہ میرے دادا میاں شریف کی وفات پر ہمیں کہا گیا کہ ہم سے ڈیل کرلو ، میں نے تنہا اپنے دادا کو لحد میں اتارا، اٹک قلعے میں میری دادی نواز شریف سے ملنے کیلئے گھنٹوں انتظار کرتی تھیں، کون کون سی داستان سنو گے مجھ سے۔ حمز ہ شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان تم کبھی جہانگیر ترین کے جہاز پر پھرتے ہو اور کبھی کنٹینر پر چڑھتے ہو،انہوں نے کہاکہ لودھراں میں عوام نے جہانگیر کا جہاز کرش کر دیا انہوں نے کے میاں محمد بخش کا کلام پڑھ کر سنایا کہ باپ مرے سر ننگا ہوئے، بھائی مرے کنڈ خالی، ماواں بعدمحمد بخشا کون کرے رکھوالی۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ نواز شریف نے بجلی کے کارخانے لگا کر ملک سے اندھیروں کو ختم کردیا، پاکستانی قوم دووقت کی روٹی کیلئے محنت مزدوری کرتی ہے اور کسی کی ماں آپریشن کیلئے چند ہزار روپے نہ ہونے کے باعث دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…