ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کرکٹ ٹیم کی لاہور روانگی کے وقت ٹیم کے ارکان اور پی آئی اے حکام کے درمیان گرما گرمی، حقیقت میں ہوا کیا تھا؟ تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کراچی سے لاہور آ رہی تھی کہ پی آئی اے کے عملے نے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی پر ان سے ناروا رویہ اپنایا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقررہ حد سے زیادہ وزن کے سامان کی ادائیگی کے لیے پالیسی واضح ہے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کو عملے نے پالیسی کے مطابق ہی اضافی سامان کی ادائیگی کے لیے کہا

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کو عملے کا رکن اضافی سامان کے پیسے نہیں لیتا تو اس کی تنخواہ سے پیسے کاٹے جاتے ہیں، ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ پی آئی اے اپنے قومی ہیروز کا احترام کرتی ہے۔ یاد رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کے ساتھ پی آئی اے عملے کے ناروا رویہ کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں اور ان میں بتایاگیا تھا کہ کھلاڑیوں اور پی آئی اے کے عملے کے درمیان سامان کے زائد وزن کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوا۔ اس حوالے سے ٹیم منیجر اعظم خان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کھلاڑیوں کے سامان کا مجموعی وزن مقررہ حد کے اندر ہی تھا مگر پی آئی اے کے عملے کے 2 افراد نے ہر بیگ میں 20، 20 کلو سامان کرنے کو کہا جبکہ پی آئی اے کے عملے نے کھلاڑیوں کے سامان کا انفرادی وزن کرنے پر زور دیا۔ ٹیم منیجر نے بتایا کہ کسی بیگ میں 22 کسی میں 20 کسی میں 15 کلو سامان تھا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ عملے کے ایک تیسرے رکن نے آ کر اس معاملے کو سلجھایا جس کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم لاہور روانہ ہو سکی۔  نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقررہ حد سے زیادہ وزن کے سامان کی ادائیگی کے لیے پالیسی واضح ہے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کو عملے نے پالیسی کے مطابق ہی اضافی سامان کی ادائیگی کے لیے کہا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کو عملے کا رکن اضافی سامان کے پیسے نہیں لیتا تو اس کی تنخواہ سے پیسے کاٹے جاتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…