ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اپنے عہدے سے جلد ہی سبکدوش ہونے والے سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو بڑا سرپرائز دے دیا، انتہائی غیر معمولی انکار

datetime 17  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد خان جو کہ 19 مارچ 2018ء کو اپنے عہد ے کی مدت مکمل ہونے پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار، کھوسہ اور دیگر ساتھی ججوں کا عشائیہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ہونے والے جسٹس دوست محمد خان نے ایک انتہائی غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیلوں کی غیر قانونی تنظیم کی جانب سے بھی الوداعی کھانے کی دعوت شکریے کے ساتھ واپس کر دی ہے۔ اس حوالے سے ابھی کوئی تصدیق نہیں ہو پائی کہ انہوں نے معذرت کیوں کی ہے لیکن ذرائع کا اس بارے میں کہنا ہے کہ جسٹس دوست محمد خان دیگر ججوں سے کچھ عرصہ سے الگ اور خاموش ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 19 مارچ کو ریٹائرڈ ہونے جسٹس دوست محمد خان کا تعلق بنوں سے ہے، 65 برس کی عمر کو پہنچنے پر سپریم کورٹ کے ججز ریٹائر ہو جاتے ہیں اور عدلیہ کی یہ روایت ہے کہ ریٹائر ہونے والے جج کے اعزاز میں الوداعی فل کورٹ ریفرنس منعقد کیا جاتا ہے اور اس ریفرنس میں سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کے علاوہ سینئر وکلاء، اٹارنی جنرل اور عدالتی عملہ بھی شریک ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد خان جو کہ 19 مارچ 2018ء کو اپنے عہد ے کی مدت مکمل ہونے پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار، کھوسہ اور دیگر ساتھی ججوں کا عشائیہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ہونے والے جسٹس دوست محمد خان نے ایک انتہائی غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیلوں کی غیر قانونی تنظیم کی جانب سے بھی الوداعی کھانے کی دعوت شکریے کے ساتھ واپس کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…