ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

انتہائی شرمناک سکینڈل نے سر اُٹھالیا،غریبوں کیلئے مختص اربوں کے فنڈز بیور کریسی نے ہڑپ کرنا شروع کردئیے ، غرباء کیلئے وقف پیسہ بھی نہ چھوڑا

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 2 ارب 45 کروڑ روپے کی کرپشن مالی بد عنوانی کا انکشاف ہوا ہے ۔ غریبوں کے لئے مختص اربوں کے فنڈز بی آئی ایس پی کی بیور کریسی نے ہڑپ کرنا شروع کر دیئے ہیں جس کے نتیجہ میں ملک بھر کے غرباء ماہانہ وظیفہ سے محروم ہو چکے ہیں

سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر کے سروے میں بیایا گیا ہے کہ بی آئی ایس پی کے سیکرٹری اور دیگر اعلی افسران نے (125714 ) جعلی افراد کے نام پر 2 ارب 45 کروڑ روپے ہڑپ کئے گئے ہیں تحقیقاتی اداروں نے اس حوالے سے یہ تحقیقات نادرا کے حوالے کیں ۔ نادرا احکام نے ملک بھر کے ڈیٹا کاتحقیقات کیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک بھر سے 1 لاکھ 25 ہزار سات سو چودہ جعلی مستحقین کے نام پر 2 ارب 45 کروڑ روپے قومی خزانے سے نکالے گئے ہیں اس سکینڈل کے مرکزی ملزمان میں بی آئی ایس پی کے سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری اور ماتحت عملہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ نادرا حکام نے بی آئی ایس پی کو ہدایت کی ہے کہ ایسا مکینزم بنایا جائے کہ جعلی افراد کے نام پر غریبوں کے لئے مختص فنڈز نہ نکالے جا سکیں ۔ اعلی حکام نے نام پر قومی فنڈز کے کرپشن کی زور ہونے سے بچانے اور کرپٹ افراد کی نشاندہی کے لئے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن سیکرٹری بی آئی اے ایس پی نے اس کمیٹی کو آزادانہ کام کرنے سے روک دیا ہے اور انکوائری کمیٹی ابھی تک کرپٹ افراد کی نشاندہی نہیں کر سکی جس کے نتیجہ میں غریبوں کے لئے مختص 2 ارب 45 کروڑ کھانے والے کرپٹ افراد کی نشاندہی نہیں ہو سکی اس حوالے سے جب آن لائن نے سیکرٹری سے رابطہ کیا تو انہوں نے وضاحت دینے سے انکار کر دیا جبکہ ترجمان نے بھی موقف نہیں دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…