ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

میرے خلاف کیا سازش ہورہی ہے اور کون کون سازش کا حصہ ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہاہے کہ ان کے خلاف دائر ریفرنس کے مدعی ’سازش‘ کا حصہ ہیں اور اصل شکایت کنندہ کوئی اور ہے۔جسٹس شوکت عزیز نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) سے درخواست کی کہ ان کے اظہارِ وجوہ کے نوٹس کو رد کیا جائے کیونکہ انہوں نے فوج کے خلاف منفی ریمارکس نہیں دیئے۔واضح رہے کہ رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ

فیض اباد میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے دیئے گئے دھرنے سے متعلق ایک کیس سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا دینے والی مذہبی جماعتوں اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اعتراض اٹھایا تھا جس میں مسلح افواج کی جانب اہم کردار ادا کیا گیا تھا۔مذکورہ ریفرنس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد رواں ماہ 6 فروری کو ایس جے سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ رائے دی گئی کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایس جے سی میں اپنا جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ گان صرف ’سازش‘ کا حصہ ہیں جنہوں نے کسی اور کے ایما پر ریفرنس دائر کیا تاہم اس حوالے سے ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر پیش بھی کیے جا سکتے ہیں‘۔خیال رہے کہ ایس جے سی ایک سپریم ا?ئینی ادارہ ہے جسے ا?ئین کے ا?رٹیکل 209 کے تحت بنایا گیا ہے جو جج صاحبان اور اہم سرکاری عہدوں کے پر فائز ہونے والی شخصیات کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔جسٹس شوکت صدیقی نے ایس جے سی کو تحریری جواب میں وضاحت پیش کی کہ فوج ایک آئینی ادارہ نہیں بلکہ آئین کے تحت اس کی تخلیق ہوئی ہے اس لیے یہ ادارہ آئینی عدالتوں کے دائرہ کار سے باہر نہیں۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 243 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو دفاعی فورسز پر مکمل کنٹرول اور اختیار ہوتا ہے نہ کہ فوج کو وفاقی ادارے پر

۔جسٹس شوکت صدیقی نے مزید کہا کہ فوج کی ذمہ داری پاکستان کو درپیش خارجی مداخلت سے بچانا اور سول حکومت کی درخواست پر قانون کی عملداری کو برقرار رکھنا ہے اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاقی حکومت کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کا پابند رکھے۔خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ایک ریٹائرڈ ملازم کی جانب سے بھی دائر ریفرنس کا سامنا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عدالتِ عالیہ کے جج نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بغیر اجازت رنگ و روغن کروایا۔جس پر جج نے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی کہ مذکورہ ریفرنس کا اوپن ٹرائل کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…