اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کشمالہ طارق نے معروف صحافی مطیع اللہ جان پر حملہ کیوں کروایا؟شرمناک وجوہات سامنے آگئیں

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی محتسب برائے خواتین کشمالہ طارق کے دفتر میں اہلکاروں نے معروف صحافی مطیع اللہ جان پر حملہ کیا تھا ۔ اس حملے کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ مطیع اللہ جان نے دوران انٹرویو کشمالہ طارق سے ایسے سوالات پوچھ لئے تھے جن کے وہ جواب نہیں دے سکیں اور غصے میں آکر انہوں نے مطیع اللہ جان پر حملہ کروادیا۔

کشمالہ طارق کے اس انٹرویو کے دوران مطیع اللہ جان نے ان سے سوال پوچھا تھا کہ آپ کو کس بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ ق کی طرف سے پارلیمنٹ میں خواتین کی مخصوص نشست کیلئے منتخب کیا گیا تھا جس کا جواب دیتے ہوئے کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ آپ یہ سوال ان سے پوچھیں جنہوں نے مجھے منتخب کیا تھا۔ مطیع اللہ جان نے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے خواتین کی مخصوص نشست کیلئے اپلائی کیا تھا؟کشمالہ کا کہنا تھا کہ ہاں میں نے اپلائی کیا تھا لیکن مجھے کیوں منتخب کیا گیا آپ یہ سوال ق لیگ کی قیادت سے پوچھیں اور اس وقت میاں اظہر ق لیگ کے سربراہ تھے۔ مطیع اللہ جان نے کشمالہ طارق سے سوال کیا کہ آپ وفاقی محتسب برائے خواتین کے عہدہ پر تعینات کی گئیں ہیں کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ کس بنیاد پر آپ کو یہ عہدہ دیا گیا جس پر کشمالہ طارق نے ایک بار پھر وہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ سوال وزیراعظم پاکستان سے پوچھیں جنہوں نے مجھے اس عہدے پر تعینات کیا ہے ۔مطیع اللہ جان نے کشمالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب برائے خواتین کا عہدہ اس شخص کو دیا جاتا ہے کہ جو شخص ہائیکورٹ کا جج بننے کا اہل ہوتا ہے، کیا آپ اس عہدے پر تعیناتی کا خود کو اہل سمجھتی ہیںجس پر کشمالہ طارق ان کے سوال کا جواب نہ دے سکیں اور ان کے سوالات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ سوال ان لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے مجھے تعینات کیا ہے۔

کشمالہ کا مطیع اللہ جان سے کہنا تھا کہ آپ ناراض کرنے والے سوالات کر رہے ہیں۔کشمالہ اور مطیع اللہ جان کے درمیان کیا سوال و جواب ہوئے۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…