پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مشال قتل کیس: عدالتی فیصلے کیخلاف 5 اپیلیں پشاور ہائیکورٹ میں دائر ،والد نے درخواستوں میں کیا موقف اپنایا

datetime 24  فروری‬‮  2018 |

پشاور(آن لائن) مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے تشدد سے ہلاک ہونے والے طالبِ علم مشال خان کے والد نے اپنے بیٹے کے قتل کیس میں ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے فیصلے کے خلاف 5 اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں دائر کردیں۔مشال خان قتل کیس میں اے ٹی سی ایبٹ آباد کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے روز مقتول کے والد اقبال خان بیرونِ ملک گئے ہوئے تھے، تاہم انہوں نے وطن

واپسی پر فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا.اقبال خان کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں مجموعی طور پر چھ اپیلیں دائر کی گئیں ہیں.ان اپیلوں میں اے ٹی سی کے فیصلے میں بری ہونے والے ملزمان کی بریت کو چیلنج کیا گیا، اس کے علاوہ مرکزی مجرم کو جن دفعات میں بری کیا گیا انہیں بھی چیلنج کیا گیا جبکہ 3 سال کی سزا پانے والے مجرمان کی سزا کو بھی چیلنج کیا گیا.مشال خان کے والد اقبال خان کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزا یافتہ مجرمان کو اس سے بھی زیادہ سزائیں دی جاسکتی ہیں.یاد رہے کہ 23 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا (کے پی) میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام پر ہجوم نے تشدد کانشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔مشال کی قتل کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تو پورے ملک میں غم و غصہ پیدا ہوا جس کے بعد پاکستان میں توہین کے قانون کے حوالے سے نئی بحث کا بھی آغاز ہوگیا تھا۔پشاور ہائی کورٹ نے مشال خان کے والد کی جانب سے درخواست پر مقدمے کو مردان سے اے ٹی سی ایبٹ آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔اے ٹی سی نے مقدمے کی سماعت کا آغاز ستمبر میں کیا تھا جبکہ یونیورسٹی کے طلبا اور اسٹاف کے اراکین سمیت گرفتار 57 مشتبہ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی

اور گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کی گئی تھی۔مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے 50 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے اور وکلا کی جانب سے ویڈیو ریکارڈ بھی پیش کیا گیا جس میں گرفتار ملزمان کو مشال خان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔مشال خان کے والد قیوم خان، ان کے دوست اور اساتذہ نے بھی اے ٹی سی کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔یاد رہے کہ مشال خان قتل کیس کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔اے ٹی سی نے پانچ ماہ اور 10 دن کی سماعت کے بعد مقدمے کی کارروائی مکمل کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…