منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں دوسروں کی ناکامیوں پرپاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا،اعزاز چوہدری

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

لاس اینجلس(آئی این پی )امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سمیت پورے خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان اور امریکہ کا ملکر کام کرنا انتہائی اہم ہے ،اگرچہ پاکستان امریکہ کیساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تاہم افغانستان میں دوسروں کی ناکامیوں پر اسے قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا ، افغانستان میں امن پاکستان کے مفا د میں ہے ، افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ۔

اسے سیاسی ،مفاہمتی عمل کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ، فوجی حل تلاش کئے جانے کی صورت میں علاقے میں امن ایک خواب رہے گا ، امید ہے امریکہ اور پاکستان کے درمیان عوام سے عوام تک رابطے اور نجی شعبے کے درمیان تعاون جاری رہے گا ۔ وہ گزشتہ شب کیلیفورنیا یونیورسٹی لاس اینجلس میں سینٹر فار انڈیا اینڈ سائوتھ ایشیاء کے زیر اہتمام پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے منعقدہ مذاکرے میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔ اس دوران اعزاز چوہدری نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیاجو گزشتہ 70سالوں سے نشیب وفراز کا شکار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے جب بھی ملکر کام کیا تو اس سے فائدہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود خطے اور افغانستان میں امن واستحکام کیلئے دونوں کا ملکر کام کرنا انتہائی اہم ہے ۔انہوں نے اس بات پر زوردیا کہ اگرچہ پاکستان امریکہ کیساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تا ہم افغانستان میں دوسروں کی ناکامی پر اسے قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے تاہم افغانستان کے مسئلے کے فوجی حل کی صورت میں علاقے میں امن ایک خواب رہے گا ،سیاسی مفاہمتی عمل ہی افغانستان میں امن اور اس کے مسئلے حل کیلئے واحد آپشن ہے ۔اعزاز چوہدری نے کہا کہ آج پاکستان میں دہشتگردوں کی کوئی محفوظ پناہ گا ہ نہیں جسکی وجہ گزشتہ تین سالوں کے دوران پاک فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں شروع کیا گیا کامیاب فوجی آپریشن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ہمیشہ وسیع البنیاد، کثیر الجہتی رہے ہیں اور انہیں افغانستان کی صورتحال سے یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کچھا رہنا دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہوگا ۔پاکستان سفیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان کشیدہ ہونے کے باوجود عوام سے عوام تک کے رابطے اور نجی شعبوں کی مصروفیات مضبوط ومستحکم رہیں گی۔

جبکہ سوال وجواب کے وقفے کے دوران اعزاز چوہدری نے پاکستان کے امریکہ،چین ،افغانستان اور بھارت کیساتھ تعلقات کے حوالے سے سوالوں کے جواب دیے اور اسی طرح انہیں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کی صورتحال بارے بھی شرکاء کے سوالوں کے مدلل انداز میں جواب دیے ۔ قبل ازیں انہوں نے بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی تذویراتی صورتحال اور عالمی تعلقات کی دوبارہ حد بندی کرنے والے سماجی واقتصادی رجحانات کا بھی جائزہ پیش کیا ۔ تقریب میں یو سی ایل اے کے طلباء ،فیکلٹی ممبران اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…