منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اداروں کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، سعد رفیق

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

ملتان (آئی این پی)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و زیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اداروں کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، عدلیہ پر تنقید نہیں کرتے ‘اس کا احترام ہم پر واجب ہے ‘عدلیہ کی بحالی کیلئے سب سے بڑی جدوجہد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے کی ‘جیلیں کاٹیں‘چاہتے تھے پاکستا ن میں غیر جانبدار اور فعال عدلیہ ہو‘عدلیہ کا فیصلہ ماننا چاہیے۔

آج کل کا جو ماحول بن گیا ہے یہ نہیں بننا چاہیے تھا‘ اس ماحول کا ذمہ دار وہ شخص ہے جو سیاست کی لڑائی کو عدالت میں لے گیا ہے‘اداروں میں فاصلے سے ریاست کو نقصان ہوتا ہے‘ جیسے فوج اور عدلیہ کا احترام لازم ہے اس طرح پارلیمنٹ کا احترام بھی لازم ہے‘ بدقسمتی سے سیاستدانوں کا احترام نہیں کیا جاتا اس سے مسلم لیگ(ن) کو نہیں پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔ وہ ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عدلیہ پر ہم تنقید نہیں کرتے اور عدلیہ کا احترام ہم پر واجب ہے اور ہم کرتے ہیں۔ آج کی عدلیہ کی بحالی کیلئے سب سے بڑی جدوجہد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے کی اور جیلیں کاٹی ہیں۔ ہم چاہتے تھے پاکستا ن میں غیر جانبدار اور فعال عدلیہ ہو۔ ہم نے کسی پر احسان نہیں کیا۔ عدلیہ کا فیصلہ آپ کو ماننا چاہیے آج کل کا جو ماحول بن گیا ہے یہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ اس ماحول کا سب سے بڑا ذمہ دار وہ شخص ہے جو سیاست کی لڑائی کو عدالت میں لے گیا ہے۔ جب ان کے دھرنے ناکام ہوئے تو عدلیہ کو استعمال کیا گیا اور وہ لوگ ماحول میں تلخی بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اداروں کے فاصلے سے ریاست کو نقصان ہوتا ہے۔ ہم بھلے ان فیصلوں سے اتفاق نہیں کرتے پھر بھی ایک دوسرے کو درگزر کرنے کے علاوہ کوئی آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ہے ۔ جس طرح فوج اور عدلیہ کا احترام لازم ہے اس طرح پارلیمنٹ کا احترام بھی لازم ہے۔ بدقسمتی سے سیاستدانوں کا احترام نہیں کیا جاتا۔ اس سے مسلم لیگ(ن) کو نہیں پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…