پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

اداروں کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، سعد رفیق

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

ملتان (آئی این پی)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و زیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اداروں کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، عدلیہ پر تنقید نہیں کرتے ‘اس کا احترام ہم پر واجب ہے ‘عدلیہ کی بحالی کیلئے سب سے بڑی جدوجہد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے کی ‘جیلیں کاٹیں‘چاہتے تھے پاکستا ن میں غیر جانبدار اور فعال عدلیہ ہو‘عدلیہ کا فیصلہ ماننا چاہیے۔

آج کل کا جو ماحول بن گیا ہے یہ نہیں بننا چاہیے تھا‘ اس ماحول کا ذمہ دار وہ شخص ہے جو سیاست کی لڑائی کو عدالت میں لے گیا ہے‘اداروں میں فاصلے سے ریاست کو نقصان ہوتا ہے‘ جیسے فوج اور عدلیہ کا احترام لازم ہے اس طرح پارلیمنٹ کا احترام بھی لازم ہے‘ بدقسمتی سے سیاستدانوں کا احترام نہیں کیا جاتا اس سے مسلم لیگ(ن) کو نہیں پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔ وہ ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عدلیہ پر ہم تنقید نہیں کرتے اور عدلیہ کا احترام ہم پر واجب ہے اور ہم کرتے ہیں۔ آج کی عدلیہ کی بحالی کیلئے سب سے بڑی جدوجہد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے کی اور جیلیں کاٹی ہیں۔ ہم چاہتے تھے پاکستا ن میں غیر جانبدار اور فعال عدلیہ ہو۔ ہم نے کسی پر احسان نہیں کیا۔ عدلیہ کا فیصلہ آپ کو ماننا چاہیے آج کل کا جو ماحول بن گیا ہے یہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ اس ماحول کا سب سے بڑا ذمہ دار وہ شخص ہے جو سیاست کی لڑائی کو عدالت میں لے گیا ہے۔ جب ان کے دھرنے ناکام ہوئے تو عدلیہ کو استعمال کیا گیا اور وہ لوگ ماحول میں تلخی بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اداروں کے فاصلے سے ریاست کو نقصان ہوتا ہے۔ ہم بھلے ان فیصلوں سے اتفاق نہیں کرتے پھر بھی ایک دوسرے کو درگزر کرنے کے علاوہ کوئی آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ہے ۔ جس طرح فوج اور عدلیہ کا احترام لازم ہے اس طرح پارلیمنٹ کا احترام بھی لازم ہے۔ بدقسمتی سے سیاستدانوں کا احترام نہیں کیا جاتا۔ اس سے مسلم لیگ(ن) کو نہیں پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…