پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

گوجر خان ٗبااثر افراد کے دباؤ میں آکر والد نے بیٹی کے ریپ کے ملزم کو معاف کردیا

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

گوجر خان (این این آئی)گوجر خان میں مزارع کا کام کرنے والے شخص نے علاقے کے بااثر افراد کے دباؤ میں آکر سترہ سالہ معذور بیٹی کے ریپ کے ملزم کو معاف کر دیا۔ذرائع کے مطابق گوجر خان کے علاقے بھٹیاں میں ہونے والے واقعہ میں نامزد ملزم کو پولیس دو سال تک گرفتار نہ کر سکی ٗ بعدازاں مزارع پر معززین علاقہ نے دباؤ ڈال کر صلح کراوا دی اور مدعی مقدمہ نے عدالت میں نامزد بااثر ملزم کے حق میں بیان دے دیا کہ اس نے اپنی بیٹی

کے ملزم کو معاف کر دیا۔گوجر خان پولیس کے مطابق 9 فروری 2016 کو منیر احمد نے مقدمہ نمبر 75 درج کرایا تھا جس میں مدعی نے موقف اپنایا تھا کہ وہ مظفر گڑھ کا رہائشی ہے اور گوجر خان میں چوہدری فدا حسین کی حویلی میں جانوروں دیکھ بھال کرتا ہے اس کا بڑا بھائی بھی اسی گائوں میں رہائش پذیر ہے۔اپنی درخواست میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی اور دو بیٹیوں کے ہمراہ چارہ کاٹ کر واپس آ رہے تھے کہ اسے اپنی بیٹی کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں جس پر دونوں بھائی اس طرف گئے تو اسی گائوں کے رہائشی محمد ادریس ولد محمد اصغر ان کی قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم معذور بیٹی کے ساتھ ریپ کرتے پایا، جیسے ہی وہ ملزم کی جانب بڑے وہ متاثرہ لڑکی کے گھر والوں کو دیکھ کر بھاگ گیا جس کے بعد پولیس کے بھی ہاتھ نہ آیا۔مدعی کے مطابق پولیس کو درخواست دینے پر معذور لڑکی کو میڈیکل کیلئے ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجر خان پہنچایا گیا جہاں اس کا میڈکل کروایا گیا۔مقدمے کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر ندیم احمد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتاتا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں معذور لڑکی سے ریپ ثابت ہوا تھا جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کیلئے جہلم اور کلر سیداں کے علاقوں میں چھاپے مارے لیکن ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

بعد ازاں ندیم احمد کے تبادلے کے بعد یہ تفتیش سب انسپکٹر عارف کے پاس چلی گئی اور انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم تقریباً دو سال تک مفرور رہا اور پھر اچانک نمودار ہوکر ایڈیشنل سیشن جج محمد عرفان نسیم تارڑ کی عدالت میں پیش ہو کرعبوری ضمانت کرا لی جس کے بارے میں بھی عدالتی نوٹس سے معلوم ہوا۔انہوں نے بتایا کہ وہ جب سماعت پر پیس ہوئے تو مدعی مقدمہ نے عدالت میں بیان حلفی جمع کرا دیا کہ اس

نے معززین علاقہ کے کہنے پر ملزم ادریس کو فی سبیل اللہ معاف کر دیا اور غلط فہمی کی وجہ سے یہ مقدمہ درج کروایا تھا اب وہ اس کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔مدعی مقدمہ منیر احمد نے بتایا کہ میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے ٗ ملزم اور جس کے پاس میں ملازمت کرتا ہوں ان دونوں ہی افراد کا تعلق ایک بااثر کھرانے سے ہے ٗاسی وجہ سے معززینِ علاقہ نے مجھ سے بیان حلفی لکھوا دیا اور میں تو ان پڑھ ہوں مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ بیان

حلفی میں لکھوایا گیا ہے۔دوسری جانب پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل میں معذور لڑکی سے زیادتی ثابت تو ہو گئی تاہم ڈی این اے کے لیے ابھی نمونے نہیں لیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب مدعی کی جانب سے ملزم کو معاف کر دیا گیا ہے لہٰذا پولیس کی جانب سے جو چالان لکھا جائیگا اس میں ملزم کو مجرم قرار دیا جائیگا جس کے بعد صرف عدالت کو اختیار ہوگا کہ وہ ملزم کومعافی نامے کی روشنی میں معاف کرے یا قانون کے مطابق سزا کا فیصلہ کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…