منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عدالتوں کو ڈرانا دھمکانا اور الزامات لگانا منتخب عوامی نمائندوں کا شیوہ نہیں ٗنہال ہاشمی کو دی گئی سزا درست ہے،آئندہ 2ماہ میں کیا ہونیوالا ہے؟اعجاز الحق نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

چشتیاں (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ضیا)کے سربراہ اعجازالحق نے کہاہے کہ قانون ساز اسمبلیوں کے ممبران کو عدالتوں کابے حد احترام کرنا چاہئے ٗعدالتوں کو ڈرانا دھمکانا اور الزامات لگانا منتخب عوامی نمائندوں کا شیوہ نہیں ٗ نہال ہاشمی کو دی گئی سزابالکل درست ہے ٗجو بھی عوامی نمائندہ عدلیہ کیخلاف بات کرے اسے سزا ملنی چاہیے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ زیب قتل کیس کو ختم کرانے کیلئے ہر حربے استعمال کیئے گئے۔ملزمان کو بچانے کیلئے مقدمہ میں قانونی پیچیدگیاں اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے ا زخود نوٹس لیتے ہوئے دولت مند طبقے کی جیت کوہار میں تبدیل کردیا۔ پیسے کے بل بوتے پر ہر دولت مند ریمنڈ ڈیوس بننے کی کوشش کررہاہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ملکی وسائل لوٹ کر باہر کے ممالک میں جانے والے واپس آکر پھر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں ٗان کے احتساب کیلئے عوامی شعور کی ضرورت ہے۔جب تک تعلیمی نظام درست اورشرح خواندگی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ سیاستدان ایسے ہی قوم کو دھوکے دیتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ یونیفارم پہننے والوں کے پاس اختیارات قوم کی امانت ہیں۔وہ اس امانت میں خیانت نہ کریں۔معصوم شہریوں کا قتل عام کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہیے ٗقانون کی حفاظت کرنے والے اگر قانون شکنی پر اتر آئیں توملک میں جنگل کا قانون رائج ہوجائے گا۔راؤ انوار کی پشت پر کراچی کے بہت بڑے مافیا کا ہاتھ ہے۔راؤ انوار کو گرفتار کرنا ہے تو بلاول ہاؤس پر چھاپہ ماراجائے۔انہوں نے کہاکہ اگلے دوماہ بہت ہی اہم ہیں اورسینیٹ اور عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونگے۔ پاکستان مسلم لیگ (ضیا)کے سربراہ اعجازالحق نے کہاہے کہ قانون ساز اسمبلیوں کے ممبران کو عدالتوں کابے حد احترام کرنا چاہئے ٗعدالتوں کو ڈرانا دھمکانا اور الزامات لگانا منتخب عوامی نمائندوں کا شیوہ نہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…