ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) بہاؤ زکریا یونیورسٹی کی طالبہ سے مبینہ طور پر ریپ کے کیس میں عدالت نے 6 ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔بہاؤ زکریا یونیورسٹی کی طالبہ سے مبینہ طور پر ریپ کے کیس میں پولیس نے واقعہ میں ملوث 6 ملزمان کو ملتان میں ڈیوٹی مجسٹریٹ ریاض احمد خان کی عدالت میں پیش کیا۔پولیس نے مجسٹریٹ سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
ملزمان میں یونیورسٹی کے لیکچرار اجمل مہار، علی رضا، عمان، نشاط، تنزیل اور محمد عثمان شامل ہیں۔خیال رہے کہ 31 جنوری 2018 کو ایک رپورٹ سامنے آئی تھی کہ جس میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی طالبہ نے اپنے استاد اور ساتھی طالب علم پر مبینہ طور پر ریپ کرنے الزام عائد کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی نے اپنے والد کے ہمراہ مقامی تھانے میں اپنی شکایت درج کرائی تھی۔سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) عمران جلیل کے مطابق متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے ایک سال قبل وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا تھا تاہم انتظامیہ کسی قسم کی کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔مبینہ زیادتی کی شکار طالبہ کے والد نے الزام عائد کیا کہ شعبہ سرائیکی کے پروفیسر اور ایک طالب علم نے طالبہ سے زیادتی کی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی۔متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ پروفیسر نے انہیں اپنی بیوی سے ملوانے کے بہانے گھر بلایا تھا تاہم جب وہ پروفیسر کے گھر پہنچیں تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا ٗ متاثرہ لڑکی نے کہا کہ پروفیسر اور ساتھی طالب علم نے ان سے ریپ کرتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی تھی۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں 6 افراد کو نامزد کیا اور الزام لگایا کہ ان تمام افراد نے ویڈیو کی بناء پر انہیں بلیک میل کیا ہے ٗایس پی کا کہنا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور ابتدائی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد مقدمہ درج کیا جائیگا ٗایس پی نے متاثرہ لڑکی کو ملتان میں خواتین کے تحفظ کیلئے مرکوز سینٹر میں منتقل کردیا تھا۔



















































