منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں کتنے فیصد والدین مذہبی بنیاد اور کتنے فیصد مالی صورتحال کیوجہ سے بچوں کومدارس میں تعلیم کیلئے بھیجتے ہیں،تازہ ترین تحقیق، حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )پاکستان میں ایک تازہ تحقیق کے مطابق 43 فیصد والدین آج بھی مذہبی بنیاد پر اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں جبکہ مالی صورتحال کی وجہ سے ایسا کرنے والوں کی تعداد 35 فیصد ہے۔اس تحقیق پر مبنی ایک کتاب دی رول آف مدرسہ شائع ہوئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک خاندان میں بچوں کی تعداد اور اس خاندان کی معاشی صورتحال اہم پہلو ہیں جن کی وجہ سے لوگ ان مدارس کا رخ کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔بی بی سی کے مطابق پاکستان میں دینی

تعلیم دینے والے ان مدارس کی درست تعداد تو شاید ہی کسی کو معلوم ہو لیکن اس کتاب میں دئیے گئے ایک اندازے کے مطابق سند جاری کرنے والے باضابطہ مدارس کی تعداد 32 ہزار سے زائد ہے جن میں دو کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔اس تحقیق کے لیے پاکستان بھر سے 558 ایسے خاندانوں کے ساتھ انٹرویوز کیے گئے ہیں جن کا کم از کم ایک بچہ مدرسے میں زیر تعلیم ہے۔ملک کے14بڑے شہروں میں کیے گئے اس جائزے کے مطابق ان خاندانوں کو سکول اور مدرسے دونوں تک رسائی حاصل تھی لیکن ان میں سے 52 فیصد نے مدرسے جبکہ 47 فیصد نے سکول کو ترجیح دی۔تحقیق سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ عموماً غریب خاندانوں کے بچے ہی مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ سروے کے دوران پتہ چلا کہ ایسے خاندانوں کی اوسط آمدن محض 23 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ملک کے 14 بڑے شہروں میں کیے گئے اس جائزے کے مطابق ان خاندانوں کو سکول اور مدرسے دونوں تک رسائی حاصل تھی لیکن ان میں سے 52 فیصد نے مدرسے جبکہ 47 فیصد نے سکول کو ترجیح دی۔ 43 فیصد نے کہا کہ وہ مذہب کی وجہ سے اپنے بچے مدرسے میں داخل کرواتے ہیں جبکہ 35 اس کی وجہ معاشی صورتحال بتاتے ہیں۔سروے کے مطابق خاندان میں بچوں کی بڑی تعداد ان کے مدرسے میں جانے کا امکان بڑھا دیتے ہیں جبکہ معاشی صورتحال میں بہتری ان کے مدرسے

میں پڑھنے کا امکان کم کر دیتی ہے۔ماہرین کے مطابق ملک میں یکساں نظام تعلیم ہی معاشی، دینی اور نسلی بنیادوں پر تفریق سے نئی نسل کو بچا سکتا ہے۔کتاب میں درج تحقیق کے مطابق مدارس کی آمدن کے دو بڑے ذرائع ہیں ان میں سے ایک اندرون اور دوسرا بیرون ملک سے ملنے والی رقوم ہیں۔ملک کے اندر انہیں رقوم زکوۃ، عشر اور خمس جیسے ذرائع سے ملتی ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی

ان ہی مدوں میں رقوم بھیجتے ہیں تاہم تحقیق کے مطابق بیرون ملک سے ملنے والی رقوم اندرون ملک سے کم ہوتی ہیں۔ کئی اسلامی ممالک یہ رقوم براہ راست مدارس کو ارسال کرتے ہیں۔ زیادہ تر مدارس کے مالی امور نہ تو مناسب دستاویزی شکل میں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے۔تحقیق میں مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کو شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مدارس کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے ان کے ساتھ تعاون اور ان کی مالی معاونت کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…