منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مشال قتل کیس کا فیصلہ محفوظ،کب سنایا جائیگا،تاریخ کا اعلان کردیا گیا

datetime 28  جنوری‬‮  2018 |

ہر ی پور (این این آئی) انسداد دہشت گردی کی عدالت مشال قتل کیس کا محفوظ فیصلہ 7 فروری کو سنائے گی ۔تفصیلات کے مطابق مشال قتل کیس کے 61 ملزمان میں سے 58 ملزمان گرفتار ہیں ٗ4 جنوری کو مشال قتل کیس کے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد زیرحراست ملزمان کی تعداد 58 ہوگئی تھی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان میاں سعید نے بتایا تھا کہ مشال قتل کیس کے ملزم اظہار عرف جونی کو مردان کے علاقے صدر سے

گرفتار کیا گیا جبکہ ملزم گزشتہ 8 ماہ سے پولیس کو مطلوب تھا۔ڈی پی او کے مطابق ملزم اظہار کے قبضے سے کلاشنکوف اور ایک پستول بھی برآمد ہوئی جس سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ٗڈی پی او مردان میاں سعید نے بتایا تھا کہ مشال قتل کیس میں مجموعی ملزمان کی تعداد 61 ہے جن میں سے 58 کو گرفتار کرلیا گیا اور اب بھی 3 ملزمان مفرور ہیں جن کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں خیال رہے کہ گزشتہ سال 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو ایک مشتعل ہجوم نے تشدد اور فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔مقتول مشال خان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر مذہب کی توہین کی تاہم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش کے دوران ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔مشال قتل کیس ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیرسماعت ہے اور عدالت زیرحراست 57 ملزمان پر فرد جرم عائد کرچکی ہے۔واضح رہے کہ مشال خان کے والد اقبال خان نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیس کو ایبٹ آباد منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جس میں انہوں نے پشاور یا مردان میں جان کو خطرے کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور دھمکیاں ملنے کا بھی بتایا تھا۔اقبال خان کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے 27 جولائی کو مقدمے کو ہری پور منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…