جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا پانچ روز کے اندر مری میں غیر قانونی عمارتیں گرانے کا حکم

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پانچ روز کے اندر مری میں غیر قانونی عمارتیں گرانے کا حکم دیدیا۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مری میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق درخواست کی سماعت کی جس دوران ڈپٹی کمشنر مری عدالت پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے مری میں غیر قانونی تعمیرات کی

تمام تفصیلات طلب کرلیں۔چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر سے استفسار کیا کہ یہ غیر قانونی عمارتیں کس کی ہیں اور ان کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ بتائیں غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں یا نہیں؟ اس پر ڈپٹی کمشنر مری نے ہاں میں جواب دیا اور بتایا کہ مری میں 2003 سے غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ یہ غیر قانونی تعمیرات ضلعی انتظامیہ کی آشیرباد سے ہوئیں، یہ غیر قانونی عمارتیں گریں گی

یا آپ گریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے دور میں یہ غیر قانونی تعمیرات ہوئیں ان کے نام بھی دیں۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بلڈوزر کرائے پر لیں اور پانچ روز میں غیر قانونی عمارتیں گرائیں ٗیہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ٗاگر کوئی عدالتوں میں کیس ہے تو اس کی بھی تفصیلات دیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی سی مری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انسپکشن ٹیم نے چھپائی گئی تعمیرات کی نشاندہی نہ کی تو نتائج بھگتنا ہوں گے، ثابت کریں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، سیاسی اثر و رسوخ کے سبب کوئی غیرقانونی تعمیرات نہ چھپائی جائیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت (آج) منگل تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…