بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ایم کیوایم لندن کے کنوینئر حسن ظفر عارف کو قتل کیاگیا یا طبعی موت ہوئی؟ پوسٹ مارٹم جاری، حیرت انگیز انکشافات

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر حسن ظفر عارف کا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں مکمل کرلیا گیا ہے۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حسن ظفر کی موت کی وجہ طبعی قرار دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حسن ظفر عارف کاپوسٹ مارٹم جناح اسپتال کے ایم

ایل او ڈاکٹر شیراز خواجہ اور ڈاکٹر سونو مل نے کیا۔ابتدائی پوسٹ مارٹم میں 72 سالہ حسن ظفر کی موت کی وجہ طبعی قرار دی گئی ہے، لاش سے نمونے حاصل کرکے کیمیکل ایگزامینر کو بھجوادیئے گئے ہیں۔کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ آنے میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں، پوسٹ مارٹم کے بعد حسن ظفر کی میت چھیپا ویلفیئر سرد خانے منتقل کر دی گئی ہے۔پوسٹ مارٹم کے مطابق پروفیسر حسن ظفر عارف کی موت ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کسی وقت ہوئی، پوسٹ مارٹم شروع کرتے وقت موت کو 8 سے 16 گھنٹے ہو چکے تھے۔پولیس کے مطابق پروفیسر حسن ظفر عارف دل کے مریض تھے۔ ڈاکٹرز کے مطابق دل کے مریض کے انتقال کے بعد ناک سے خون آنا عام بات ہے، پروفیسر حسن ظفر عارف کی لاش پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا۔ڈاکٹرزنے بتایاکہ دل کے مریض کو کسی کمرے میں بند کر دیا جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے، تشدد سے ڈرایا دھمکایا جائے تو بھی دل کا مریض مر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق دل کے مریض کی حبس بے جا میں موت بھی قتل کے زمرے میں آتی ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حسن ظفر کی موت کی وجہ طبعی قرار دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…