بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ننھی زینب کے قتل پر قصور شہر میں پر تشدد ہنگامے کس نے کروائے احتجاج کے دوران گرفتار ہونیوالے آج کہاں اور کس حال میں ہیں مقتولہ کے والد بیٹی کے غم میں بھی ان کو نہ بھولے، بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل پر قصور شہر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، زینب کی تدفین کے بعد اچانک شہر بھر میں پر تشدد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس کے دوران پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، ڈی سی آفس پر مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کر دی جس کی زد میں آکر دو افراد

جان کی بازی ہار گئے۔ اس دوران پولیس نے ہنگامے اور احتجاج کرنے والے 30افراد کو بھی گرفتار کیا تھا جو تاحال گرفتار ہیں۔ گرفتار مظاہرین کی رہائی کیلئے زینب کے والد محمد امین انصاری نے سرکاری سطح پر مذاکرات کیلئے ایک مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کیا ہے جس کے چیئرمین سینئر مسلم لیگی رہنما خادم حسین قصوری جبکہ دیگر ممبران میں ڈاکٹر انجم رشید، عمران انصاری، امیر الحسن ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ زینب کے والد کی جانب سے مظاہرین کی رہائی کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے چیئرمین خادم حسین قصوری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ زینب اور اس کے اہل خانہ ظلم کا شکار ہوئے اور ان کو انصاف دلانے کیلئے میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں تاہم پہلے دن سے ہی اس کوشش میں تھا کہ قصور شہر ہنگاموں سے بچ جائے اور توڑ پھوڑ اور جلائو گھیرائو نہ ہو اور اس سلسلے میں مذاکرات بھی کئے تاہم کچھ شرپسند عناصر نے ان کوششوں کو سبوتاژ کیا اور شہر میں ہنگامہ آرائی کروائی جس سے نہ صرف املاک کو نقصان پہنچا بلکہ دو قیمتی جانیں بھی گئیں جو کہ افسوسناک ہے۔ خادم حسین قصور کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت زینب کے قاتل کی گرفتاری کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور ہم نے ہر صورت ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…