جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک بھر میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پر پابندی عائد کردی

datetime 6  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک بھر میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پر پابندی عائد کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ اگر ینگ ڈاکٹرز کو کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ عدالت سے رجوع کریں۔ ہفتہ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹر میں ہسپتالوں کی حالتِ زار کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔لاہور کے 19 ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سیکریٹری صحت

پنجاب عدالت کے حکم پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں ہسپتالوں کی صورتحال اچھی نہیں ٗ ہسپتالوں کی مکمل حالت زار پر حلفیہ بیان کے ساتھ عدالت میں رپورٹس جمع کروائیں۔ چیف جسٹس نے تمام ہسپتالوں کی آڈٹ رپورٹ اور ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی موجودگی کی بھی رپورٹ طلب کر لیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کا مقصد ایکشن‘ لینا نہیں بلکہ ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر کرنا ہے۔چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب سے استفسار کیا کہ سروسز ہسپتال میں ایک وارڈ میں آپریشن کے دوران زخم پر ٹانکے لگانے والا آلہ بھی موجود نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اپنی تشہیر پر کروڑوں روپے اشتہارات کی مد میں لگا رہی ہے لہٰذا ٹی وی چینلز پر اپنی مشہوری کے بجائے ہسپتالوں کو ادویات فراہم کی جائیں۔چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ عوام کو ہسپتالوں میں صحت کی سہولتیں کیوں فراہم نہیں کی جارہی کیا یہ بھی عدالت کی ذمہ داری ہے جس پر سیکریٹری صحت نے کہا کہ انتظامیہ کو ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا سامنا رہتا ہے جس کے باعث مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال نہیں ہوگی اور اگر ینگ ڈاکٹرز کو کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ عدالت سے

رجوع کریں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تعلیم اور ہیلتھ کے شعبوں میں کام نہیں ہوئے تو اورنج لائن سمیت تمام پراجیکٹ بند کر دیئے جائیں گے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…