جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

این آر او ،سول اور فوج کے تعلقات خراب کرنے کی سازش،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا اعتراف کرلیا،چونکادینے والے انکشافات

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا ہے کہ کوئی این آر او نہیں ہو رہا، اس حوالے سے قیاس آرائیاں مناسب نہیں، ایک طبقہ چاہتا ہے سول اور فوج کے تعلقات خراب ہوں ٗ کامیابی نہیں ملے گی ٗکوئی ٹیکس ایمنسٹی لیتا ہے تو اس کو ڈیکلیئر کرنا چاہئے، میں کسی پر صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے کا لیبل لگانے کا قائل نہیں ٗمسلم لیگ (ن) کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی،

آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی گنجائش نہیں ٗپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں کیں اور سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، افغانستان سے دہشت گرد آ کر ہمارے ملک میں حملے کر رہے ہیں، دنیا افغانستان میں امن قائم کرے، پاکستان ہم اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ کوئی این آر او نہیں ہو رہاہے ، مجھ سے کسی نے این آر او کی بات نہیں کی، این آر او پاکستان کا قانون تھا،سعودی عرب کا نہیں، نواز شریف اور شہباز شریف نجی دورہ پر سعودی عرب گئے، ان کے اپنے تعلقات ہیں اور وہ اکثر عمرے پر بھی جاتے ہیں، اس حوالہ سے قیاس آرائی کرنا یا اخبارات کی زینت بنانا مناسب نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں مسلم لیگ (ن) کا نمائندہ ہوں، میری کوشش ہے کہ سیاست مستحکم ہو، انتخابات وقت پر اور منصفانہ ہوں تاکہ ملک میں جمہوریت کا سفر چلتا رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو عدالت کا جو فیصلہ آیا اس پر رائے زنی نہیں کروں گا لیکن یہ ضرور کہوں گا اسے عوام نے قبول نہیں کیا، فیصلہ کے پیمانے کے بارے وقت خود بتا دے گا، ہم نے اس پر عمل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، یہاں جس کے پاس 10 ہزار ووٹ نہیں وہ بھی دھرنا دے دیتے ہیں، اگر نواز شریف نے عوامی قوت کا مظاہرہ کیا تو یہ ان کا حق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہاں

ایک جملہ سے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے جاتے ہیں، بات کو ہمیشہ درست تناظر میں لینا چاہئے، سیاسی لوگ تبصرہ کرتے ہیں یہ ان کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مجھے وزیراعظم بنایا، میں نے کام کرنا ہے، کام کرنے کا طریقہ کار اپنا اپنا ہوتا ہے، مجھ پر تنقید کرنے والے اپنے دور حکومت کے کام بتا دیں، ہم نے مشکلات کے باوجود کام کئے، جو کام نواز شریف نے شروع کئے وہ ہم مکمل کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ فیصلہ جماعت کا ہو گا کہ آئندہ وزیراعظم کس نے بننا ہے،

کوشش ہے کہ میری جماعت کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی صدر کے ٹویٹ کے حوالہ سے کئے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا جواب مناسب فورمز کے ذریعے دیدیا گیا، وفاقی کابینہ میں بھی امریکی صدر کے ٹویٹ کا جواب دیا گیا، جس فورم پر جو بات آتی ہے اسی فورم سے جواب دیا جاتا ہے، ذاتی طور پر جواب دینے کے حق میں نہیں ہوں، یہاں حکومت کی طرف سے جواب آنا چاہئے تھا جو دیا گیا جبکہ اس کی قومی سلامتی کونسل میں بھی مذمت کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے، جس ملک نے اس حوالہ سے بات کی ہم نے اسے جواب دیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں کیں اور سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، ہم نے پاکستان سے دہشت گردی کو ختم کر دیا ہے، افغانستان سے دہشت گرد آ کر ہمارے ملک میں حملے کر رہے ہیں، اب دنیا کو چاہئے کہ وہ افغانستان میں امن قائم کرے، افغانستان میں قیام امن ہمارے اپنے مفاد میں ہے اور ہم اس کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے سربراہ ہیں اور فوج حکومت کا حصہ ہے،

یہ ممکن نہیں کہ سول حکومت اور فوج کے تعلقات خراب ہوں، ہمیشہ ایک طبقہ چاہتا ہے کہ سول اور فوج کے تعلقات خراب ہوں اور وہ اس سے فائدہ اٹھائے، یہ عناصر بیرونی امداد سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملکوں کے درمیان رابطوں سے مؤقف سمجھانے میں مدد ملتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینا چاہتے ہیں، ٹیکس ریٹ کو کم اور ٹیکس کے دائرہ کو بڑھا کر چوری کا راستہ روکا جا سکتا ہے، اس سلسلہ میں ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

عمران خان کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی لینے کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ٹیکس ایمنسٹی لیتا ہے تو اس کو ڈیکلیئر کرنا چاہئے، میں کسی پر صادق اور امین ہونے یا نہ ہونے کا لیبل لگانے کا قائل نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایل این جی کے حوالہ سے کئے گئے فیصلہ کی سو فیصد ذمہ داری قبول کرتا ہوں، اس معاملہ میں کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں ہے تاہم کسی بھی سوال کا جواب دینے کیلئے تیار ہوں، بلاجواز الزام تراشیاں اور شکوک و شبہات نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی درآمد ملک کیلئے فائدہ مند ہے اور جن نرخوں پر ہم نے ایل این جی درآمد کی وہ سب سے کم ہیں، طویل المدتی معاہدوں سے فائدے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے، اب قلت نہیں ہو گی، پاکستان فرنس آئل درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک تھا، آج فرنس آئل کی درآمد ختم ہو گئی ہے، اس لئے بجلی مہنگی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت اس لئے بڑھی ہے کہ صوبوں میں چوری نہیں روکی جا سکی۔ گوادر کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں حکومتوں نے یہاں پر تختیاں لگائیں اور وعدے کئے لیکن اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا، آج وہاں کام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں ایک ایسے وقت میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی ہے جب اس کی تکمیل میں پانچ ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے، یہ مناسب اقدام نہیں تاہم یہ وہاں کے ممبران کا حق ہے۔ ٹیکنو کریٹ حکومت کے حوالہ سے ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس کی آئین میں گنجائش نہیں ہے، الیکشن کیلئے سیاسی اتحاد بننا سیاسی عمل کا حصہ ہے، ہم کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…