جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی کے اہم رہنما کراچی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

میرپور ماتھیلو (مانیٹرنگ ڈیسک) رکن سندھ اسمبلی احمد علی خان پتافی طویل علالت کے بعد کراچی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے ۔ رکن سندھ اسمبلی احمد علی خان پتافی عرصہ دراز سے بلڈ کینسر کے عارضہ میں مبتلا تھے ۔ مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی کا سفر 1988 ؁سے شروع کیا اور پہلی بار رکن صوبائی اسمبلی سندھ منتخب ہوئے ۔ مرحوم نے اپنی وفاداریاں ہمیشہ پیپلز پارٹی سے منسوب رکھیں پارٹی میں مرحوم کی خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔

سابق وزیر مملکت میر خالد احمد لونڈ کا مرحوم کے انتقال پر اظہار افسوس ۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی ٹکٹ سے کامیاب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی اور پتافی قبیلے کے چیف سردار احمد علی خان پتافی 80برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد کراچی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے ۔ مرحوم احمد علی خان پتافی عرصہ دراز سے بلڈ کینسر کے عارضہ میں مبتلا تھے جنہیں تشویشناک حالت میں علاج کی غرض سے کراچی کے آغا خان ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ رکن صوبائی اسمبلی سندھ احمد علی خان پتافی نے اپنی سیاستی زندگی کا آغاز 1988- ؁ سے کیا اور پیپلز پارٹی کی ٹکٹ سے پہلی بار رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے اور مشرف حکومت کے خاتمہ کے بعد مسلسل دو بار میرپور ماتھیلو کی نشت پی ایس 7سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ سے کامیابی حاصل کی ۔ مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی میں سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے مفادات کی سیاست کو کبھی ترجیح نہیں دی ۔ مرحوم کے انتقال پر ضلع بھر کی سیاسی ،سماجی اور سول سوسائٹی کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں سابق وزیر مملکت برائے دفاع میر خالد احمد خان لونڈ نے مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ پیپلز پارٹی سے وفاداریاں نبھاتے ہوئے ذاتی مفادات کو ترجیح نہیں دی اور پارٹی کے لیے ہمیشہ اپنی خدمات پیش کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم احمد علی خان پتافی جیسے نظریاتی رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔ مرحوم نے اپنے سیاسی سفر میں چار بارپی ایس ۷سے کامیابی حاصل کی ۔ رکن صوبائی اسمبلی سندھ احمد علی خان پتافی کی نماز جنارہ آج بروز ہفتہ بعد نماز ظہر ان کے آبائی گاؤں کینجھر میں ادا کی جائے گی ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…