جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پیر سیالوی کو کس نام سے پکارا جاتا ہے اور وہ کس مشکل میں ہیں؟ مجھے استعفیٰ دینے سے کس نے روکا ہوا ہے؟ رانا ثناء اللہ کھل کر بول پڑے

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) استعفے کے لیے رانا ثناء اللہ کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی، تفصیلات کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کی جانب سے رانا ثناء اللہ کو 31 دسمبر کی استعفے کے لیے ڈیڈ لائن دی گئی تھی جو کہ ختم ہو چکی ہے اس موقع پر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پیر حمید الدین کو مشکل کشا کہا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ میرے استعفے کے معاملے پر خود مشکل کش مشکل میں ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ پیر حمید الدین کو سیاست کے لیے

استعمال کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا استعفیٰ میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اس کا فیصلہ میری جماعت نے کرنا ہے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ استعفیٰ لینے کے لیے ان لوگوں کو مئی 2018ء تک انتظار کرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی 2018ء میں سیاست سے فارغ ہو جائیں گے اور پھر بیٹھ کر اپنے بچوں کو کہانیاں سنائیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ کے صرف نواز شریف ہی رہنما ہیں اور نواز شریف مسلم امہ کے اتحاد کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ تمام مسلم امہ کو میاں نواز شریف کے کردار پر فخر ہے اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہم پہلی دفعہ استعفے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے گزشتہ چار سے یہی کام ہو رہا ہے، انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے کہا کہ باقر نجفی کی رپورٹ میں کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔  استعفے کے لیے رانا ثناء اللہ کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی، تفصیلات کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کی جانب سے رانا ثناء اللہ کو 31 دسمبر کی استعفے کے لیے ڈیڈ لائن دی گئی تھی جو کہ ختم ہو چکی ہے اس موقع پر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پیر حمید الدین کو مشکل کشا کہا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ میرے استعفے کے معاملے پر خود مشکل کش مشکل میں ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ پیر حمید الدین کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…