اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) استعفے کے لیے رانا ثناء اللہ کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی، تفصیلات کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کی جانب سے رانا ثناء اللہ کو 31 دسمبر کی استعفے کے لیے ڈیڈ لائن دی گئی تھی جو کہ ختم ہو چکی ہے اس موقع پر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پیر حمید الدین کو مشکل کشا کہا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ میرے استعفے کے معاملے پر خود مشکل کش مشکل میں ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ پیر حمید الدین کو سیاست کے لیے
استعمال کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا استعفیٰ میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اس کا فیصلہ میری جماعت نے کرنا ہے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ استعفیٰ لینے کے لیے ان لوگوں کو مئی 2018ء تک انتظار کرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی 2018ء میں سیاست سے فارغ ہو جائیں گے اور پھر بیٹھ کر اپنے بچوں کو کہانیاں سنائیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ کے صرف نواز شریف ہی رہنما ہیں اور نواز شریف مسلم امہ کے اتحاد کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ تمام مسلم امہ کو میاں نواز شریف کے کردار پر فخر ہے اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہم پہلی دفعہ استعفے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے گزشتہ چار سے یہی کام ہو رہا ہے، انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے کہا کہ باقر نجفی کی رپورٹ میں کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ استعفے کے لیے رانا ثناء اللہ کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی، تفصیلات کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کی جانب سے رانا ثناء اللہ کو 31 دسمبر کی استعفے کے لیے ڈیڈ لائن دی گئی تھی جو کہ ختم ہو چکی ہے اس موقع پر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پیر حمید الدین کو مشکل کشا کہا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ میرے استعفے کے معاملے پر خود مشکل کش مشکل میں ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ پیر حمید الدین کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں،



















































