منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

دہشت گرد جب چاہیں بڑا حادثہ کر سکتے ہیں، کیا حکومت صرف فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھی ہوئی ہے؟ مولانا عبدالغفور حیدری کی صحافیوں سے گفتگو 

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفورحیدری نے کہا ہے کہ تمام تر دعووں کے باوجود بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں ہوئی،حکومت اپنی ذمہ داریوں کاادراک کرے، صوبے میں دہشت گردی کے واقعات سے لگتاہے کہ حکومتی رٹ ختم ہوگئی ہے دہشت گرد جب چاہیے جتنابڑاحادثہ کرسکتے ہیں کیاحکومت صرف فاتحہ خوانی کیلئے بیٹھی ہوئی ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کی شام کو کوئٹہ میں خودکش حملہ میں متاثر ہونیوالے میتھو ڈسٹ چرچ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے چرچ میں دہشت گردی کاافسوسناک واقعہ رونماہوا،مسیحی برادری کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست کی ہے،حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ماتحت اداروں کی جواب طلبی کرے،حکومت صرف بیان بازی کے سواکچھ نہیں کررہی،مولاناعبدالغفورحیدری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں،ملک میں ساٹھ ہزارسے زائد افراد دہشت گردی کی نذرہوچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ تمام تر دعووں کے باوجود بلوچستان میں دہشت گردی میں کمی نہیں ہوئی،حکومت اپنی ذمہ داریوں کاادراک کرے،وفاقی وزیرداخلہ کوکہوں گاکہ دہشت گردی کامسئلہ صحیح حکمت عملی سے ختم ہوگا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالفغوری حیدری نے مزید کہا کہ میں نے آرمی چیف سے کہاکہ کیابلوچستان میں دہشت گردی کی وجہ سی پیک تونہیں، صوبے میں سی پیک کے منصوبے میں کامیاب ہوئے توبلوچستان سمیت پوراملک معاشی طورپرمستحکم ہوگا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت کاحصہ ہوتے ہوئے ہم نے حق بات کرنے سے دریغ نہیں کیا،بلوچستان میراصوبہ ہے،میراخمیر بھی اسی خاک سے ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ میتھوڈسٹ چرچ میں

جو جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے حکومت انکو فوری طورپر مالی مدد کے بارے میں جوا علانات کئے ہیں اس پر فوری طورپر عملدار کرے تاکہ اس حادثے میں جو جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں انکی مدد ہوسکے کیونکہ اس وقت وہ مشکلات سے دوچار ہیں حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کرنے چاہیے،میتھوڈسٹ چرچ کے دورے کے موقع پرسیکورٹی کے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ایف سی اور پولیس تعینات تھی ،

اور سیکورٹی اداروں نے زرغون روڈ کو مکمل طورپر بند کیا ہوا تھا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو چرچ کی جانب جانے کی اجازت نہیں تھی ،اس موقع پر میتھوڈسٹ چرچ کے پادری نے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفورحیدریکا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خودکش حملے میں متاثر ہ چرچ کا دورہ کیا اور مسیحی برادری سے اظہاریکجہتی کا مظاہرہ کیا او رپارٹی کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلانے پر ہم انکے مشکور ہے کہ انہوں نے اس مشکل گڑی میں مسیحی برادری کا ساتھ دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…