جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دہشت گرد جب چاہیں بڑا حادثہ کر سکتے ہیں، کیا حکومت صرف فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھی ہوئی ہے؟ مولانا عبدالغفور حیدری کی صحافیوں سے گفتگو 

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفورحیدری نے کہا ہے کہ تمام تر دعووں کے باوجود بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں ہوئی،حکومت اپنی ذمہ داریوں کاادراک کرے، صوبے میں دہشت گردی کے واقعات سے لگتاہے کہ حکومتی رٹ ختم ہوگئی ہے دہشت گرد جب چاہیے جتنابڑاحادثہ کرسکتے ہیں کیاحکومت صرف فاتحہ خوانی کیلئے بیٹھی ہوئی ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کی شام کو کوئٹہ میں خودکش حملہ میں متاثر ہونیوالے میتھو ڈسٹ چرچ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے چرچ میں دہشت گردی کاافسوسناک واقعہ رونماہوا،مسیحی برادری کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست کی ہے،حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ماتحت اداروں کی جواب طلبی کرے،حکومت صرف بیان بازی کے سواکچھ نہیں کررہی،مولاناعبدالغفورحیدری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں،ملک میں ساٹھ ہزارسے زائد افراد دہشت گردی کی نذرہوچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ تمام تر دعووں کے باوجود بلوچستان میں دہشت گردی میں کمی نہیں ہوئی،حکومت اپنی ذمہ داریوں کاادراک کرے،وفاقی وزیرداخلہ کوکہوں گاکہ دہشت گردی کامسئلہ صحیح حکمت عملی سے ختم ہوگا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالفغوری حیدری نے مزید کہا کہ میں نے آرمی چیف سے کہاکہ کیابلوچستان میں دہشت گردی کی وجہ سی پیک تونہیں، صوبے میں سی پیک کے منصوبے میں کامیاب ہوئے توبلوچستان سمیت پوراملک معاشی طورپرمستحکم ہوگا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت کاحصہ ہوتے ہوئے ہم نے حق بات کرنے سے دریغ نہیں کیا،بلوچستان میراصوبہ ہے،میراخمیر بھی اسی خاک سے ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ میتھوڈسٹ چرچ میں

جو جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے حکومت انکو فوری طورپر مالی مدد کے بارے میں جوا علانات کئے ہیں اس پر فوری طورپر عملدار کرے تاکہ اس حادثے میں جو جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں انکی مدد ہوسکے کیونکہ اس وقت وہ مشکلات سے دوچار ہیں حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کرنے چاہیے،میتھوڈسٹ چرچ کے دورے کے موقع پرسیکورٹی کے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ایف سی اور پولیس تعینات تھی ،

اور سیکورٹی اداروں نے زرغون روڈ کو مکمل طورپر بند کیا ہوا تھا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو چرچ کی جانب جانے کی اجازت نہیں تھی ،اس موقع پر میتھوڈسٹ چرچ کے پادری نے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفورحیدریکا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خودکش حملے میں متاثر ہ چرچ کا دورہ کیا اور مسیحی برادری سے اظہاریکجہتی کا مظاہرہ کیا او رپارٹی کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلانے پر ہم انکے مشکور ہے کہ انہوں نے اس مشکل گڑی میں مسیحی برادری کا ساتھ دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…