جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاک افغا ن سر حد پر باڑ کی تنصیب جاری روزانہ کتنے کلومیٹر باڑ لگائی جارہی ہے،پڑھئے تفصیلات

datetime 25  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) پاک افغانستان کی 2500 کلومیٹر طویل بارڈ لائن کو محفوظ بنانے کے لئے باڑ کی تنصیب کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے ۔ کل832 کلومیٹر کی لگائی جانے والی باڑ کو 2 فیزمیں مکمل کیا جانا ہے ۔ فیز ون میں تیار کی جانے والی کل 432 کلومیٹر طویل باڑ میں سے رواں برس 150 کلومیٹر ایریا پر باڑ کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا جائے گا جبکہ منصوبہ کی حمتی تکمیل سال 2018 کے آخر تک مکمل ہو پائے گی ۔

باڑ کی تنصیب میں باجوڑ ‘ مہمند اور خیبرایجنسی میں باڑ کی ترجیحات میں شامل ہیں ۔ سکیورٹی آفیشلز کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق 10 ارب روپے کی لاگت کے پاک و افغان بارڈر لائن پر باڑ کی تنصیب کے منصوبے پر 400 گاڑیوں سے راونڈ دی کلاک سامان کی ترسیل یقینی بنائی جا رہی ہے جبکہ فیبریکشن سائیٹ اکوڑا خٹک میں بنائی گئی ہے ۔ ایک کلومیٹر کے علاقے کے لئے 47 ٹن سامان جبکہ باڑ کی تنصیب پر اٹھنے والے اخراجات تخمینہ 14 ملین کے قریب ہے ۔ 14 مختلف سائیٹس پر جاری اس منصوبے کے لئے پاک آرمی کی 14 یونٹس کے 12000 افراد دن رات اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں جبکہ منصوبے پر کام کرنے والے سویلین کی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک کلومیٹر سے زائدایر یا پر باڑ کی تنصیب کا کام مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ مشکل اور دشوار گزار علاقوں میں کبھی کبھی زیادہ وقت بھی لگتا ہے ۔ علاوہ ازیں سٹیٹس پرکام کرنے والے افراد کے لئے بارڈر پار سے کراس فائرنگ سے بچنا بھی ایک مسئلہ ہے جو کہ بعض اوقات موقع سے کام کرنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لئے کی جاتی رہتی ہین ۔ خیبرپختونخوا اور فاٹا سے ملحقہ بارڈر ایریا پر باڑ کی تنصیب کا کام جہاں ایک طرف قدرے تیزی سے جاری ہے وہیں دوسری طرف بلوچستان سے ملحقہ بارڈر پر تاحال کام کا آغاز نہیں کیا جا سکا ہے

سکیورٹی حکام کے مطابق بارڈر ایریا کو محفوظ بنانے کے لئے 1100 چیک پوسٹوں کے علاوہ پاک افغان بارڈر پر کل 443 قلعے بھی تیار کئے جانے ہیں جن میں 150 کے قریب قلعے تقریباً تیار کئے جا چکے ہیں ۔ حکام کے مطابق بارڈر لائن پر قلعوں اور باڑ کی تنصیب کا کام دو سال کے دورانیہ میں مکمل کر لیا جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…