جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایسا کیا عمل کیا جائے کہ نیب اور انسداد بدعنوانی کے محکمے ختم ہو جائیں؟ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا سیمینار میں دعویٰ

datetime 8  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ خود احتسابی کے عمل سے نہ نیب اور نہ کسی انسداد بدعنوانی کے محکمے کی ضرورت ہو گی، نیب کو ایک عوام دوست ادارے میں ڈھالنے کیلئے کوشاں ہیں، خود احتسابی کرنے والا اللہ اور اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے،

میڈیا میں تنقید تعمیری بھی ہونی چاہیے اور متبادل راہ بھی بتائی جائے، کرپشن کا مقابلہ گڈ گورننس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔جمعہ کو ایوان صدر میں انسداد بدعنوانی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد ہواجس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے جس سے نظم و نسق بری طرح متاثر ہوتا ہے، خود احتساب کے نظام سے ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے، خود احتساب کے عمل سے نہ نیب اور کسی انسداد بدعنوانی کے محکمے کی ضرورت ہو گی، خود احتساب کرنے والا اللہ اور اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرپشن سے متاثر ہو رہا ہے،صوابدیدی اختیارات بھی کرپشن کی ایک بڑی وجہ ہے، نیب کو ایک عوام دوست ادارے میں ڈھالنے کیلئے کوشاں ہیں، نیب کا ادارہ عوام کے تعاون سے بدعنوانی کے خاتمے میں مصروف ہے، میڈیا میں تنقید تعمیری ہونی چاہیے اور متبادل راہ بھی بتائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے 288ارب روپے وصول کئے جو قومی خزانے میں جمع کرائے گئے، نیب میں تمام انکوائریوں پر کام ہورہا ہے، نیب میں کرپٹ شخص کیلئے کوئی رعایت نہیں چاہے جتنا ہی بااثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کا مقابلہ گڈگورننس کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، قانون کی حکمرانی بنیادی نکتہ ہے، کوئی بھی کیس تاخیر کا شکار نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…