منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

ایسا کیا عمل کیا جائے کہ نیب اور انسداد بدعنوانی کے محکمے ختم ہو جائیں؟ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا سیمینار میں دعویٰ

datetime 8  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ خود احتسابی کے عمل سے نہ نیب اور نہ کسی انسداد بدعنوانی کے محکمے کی ضرورت ہو گی، نیب کو ایک عوام دوست ادارے میں ڈھالنے کیلئے کوشاں ہیں، خود احتسابی کرنے والا اللہ اور اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے،

میڈیا میں تنقید تعمیری بھی ہونی چاہیے اور متبادل راہ بھی بتائی جائے، کرپشن کا مقابلہ گڈ گورننس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔جمعہ کو ایوان صدر میں انسداد بدعنوانی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد ہواجس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے جس سے نظم و نسق بری طرح متاثر ہوتا ہے، خود احتساب کے نظام سے ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے، خود احتساب کے عمل سے نہ نیب اور کسی انسداد بدعنوانی کے محکمے کی ضرورت ہو گی، خود احتساب کرنے والا اللہ اور اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرپشن سے متاثر ہو رہا ہے،صوابدیدی اختیارات بھی کرپشن کی ایک بڑی وجہ ہے، نیب کو ایک عوام دوست ادارے میں ڈھالنے کیلئے کوشاں ہیں، نیب کا ادارہ عوام کے تعاون سے بدعنوانی کے خاتمے میں مصروف ہے، میڈیا میں تنقید تعمیری ہونی چاہیے اور متبادل راہ بھی بتائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے 288ارب روپے وصول کئے جو قومی خزانے میں جمع کرائے گئے، نیب میں تمام انکوائریوں پر کام ہورہا ہے، نیب میں کرپٹ شخص کیلئے کوئی رعایت نہیں چاہے جتنا ہی بااثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کا مقابلہ گڈگورننس کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، قانون کی حکمرانی بنیادی نکتہ ہے، کوئی بھی کیس تاخیر کا شکار نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…